| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دارا سِنگھ کو سزائے موت
ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک عدالت نے آسٹریلوی مِشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کو زندہ جلانے کے جرم میں دارا سِنگھ کو سزائے موت اور دیگر بارہ افراد کو عمرِقید کی سزا سنائی ہے۔ دارا سنِگھ کی قیادت میں ان افراد نے گراہم اسٹینس اور ان کے دس سالہ بیٹے فِلپ اور آٹھ سالہ بیٹے ٹموتھی کو اس وقت جلادیا تھا جب وہ ایک جیپ میں سورہے تھے۔ پیر کو جب دارا سِنگھ کو سزا سنائی گئی ریاست اڑیسہ میں تمام گرجاگھروں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ استغاثہ کے وکلاء نے ان تمام افراد کو سزائے موت دینے کی سفارش کی تھی لیکن ان کا دفاع کرنے والے وکیلوں نے عدالت سے کہا کہ ان لوگوں کا تعلق غریب قبائل سے ہے اور ان کے رشتہ داروں کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
آسٹریلوی مِشنری گراہم اسٹینس نے اڑیسہ میں جذام یعنی کوڑھ کے مریضوں کی دیکھ بھال میں تیس سال صرف کیے تھے۔ ان کی بیوہ گلیڈیز اب بھی اڑیسہ میں یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان افراد کو معاف کردینے کی اپیل کی تھی۔ جنوری انیس سو ننانوے میں اسٹینس اور ان کے بیٹوں کے زندہ جلائے جانے کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی۔ سخت گیر ہندوؤں کا کہنا ہے کہ غیرملکی پادری ہندوؤں کو عیسائی بنارہے ہیں۔ تاہم سرکاری تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اسٹینس کو زندہ جلانے کے واقعے میں کوئی منظم گروہ ملوث نہیں تھا۔ دارا سنِگھ پر الزام ہے کہ اس نے اس قتل کی منصوبہ بندی کی۔ ایک ملزم نے بتایا کہ وہ ’قبائلی رسم و رواج میں کرپشن‘ کی وجہ سے مشتعل ہوگیا تھا۔ انگریزی روزنامے ہندوستان ٹائمس کے مطابق اس شخص کا کہنا تھا: ’میں نے ایسا عیسائیوں سے بگڑے ہوئے تعلقات کی وجہ سے کیا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |