اڑیسہ میں چرچوں پر حملے، کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشرقی ریاست اڑیسہ میں یوم کرسمس کی مخالفت میں سخت گير ہندو تنظیموں کے بند کے دوران کئی گرجا گھروں پر حملے ہوئے ہیں اور تشدد میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔ اطلات کے مطابق تشدد کے واقعات میں کم سے دو درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بھوبنیشور میں ایک سینئر اہلکار نے نے بتایا ہے کہ تشدد پر قابو پانے کے لیے پھول بنی، بالی گڑی، دارنگی باڑی اور براہنی گاؤں جیسے اضلاع میں غیر معینہ مدت کا کرفیو نافذ ہے۔ حکام کے مطابق بارہ کھمبا کے علاقے میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی ہے۔ ریاست کے وزیراعلی نوین پٹنائک نے صورت حال کے متعلق نامہ نگاروں سے بات چيت کرتے ہوئے کہا ہے:’ کئی علاقوں میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور اب صورت حال پوری طرح قابو میں ہے۔‘ ریاست کے کاندھامل ضلع میں چھ گرجاگھروں کو نشانہ بنایا گيا ہے جبکہ دیگر کئی علاقوں میں چرچز میں توڑ پھوڑ کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔ بعض پولیس کی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کرنے کے واقعات ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک اس پورے تنازعہ کے متعلق ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ’وہ لوگوں کو عیسائی مذہب میں تبدیل کرتے ہیں اور ملک کو ایک عیسائی ملک بنانا چاہتے ہیں، ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں اور یہی تمام تنازعات اور لڑائیوں کی جڑ ہے۔‘ پولیس کے مطابق بند کے دوران عیسائیوں اور اور بعض وی ایچ پی کارکنوں کے درمیان چھوٹی چھوٹی جھڑپیں شروع ہوئی تھیں لیکن بعض لو گوں نے لکشمن آنند سرسوتی پر حملہ کر دیا جس پر ایچ پی کے کارکن بھڑک اٹھے اور ہنگامہ شروع ہوگیا۔ پولیس نے ان پر حملے کے لیے چند افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ریاست اڑیسہ میں سخت گیر ہندو کارکن عیسائی مشنریز کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ چند برس قبل ایک آسٹریلوی مِشنری گراہم اسٹینس اور ان کے دو بیٹوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں دارا سِنگھ کو سزائے موت22 September, 2003 | آس پاس ’نچلی ذات کی خواتین پر ظلم‘24 September, 2005 | انڈیا گرجا گھروں کے لیے ڈریس کوڈ14 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||