BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 August, 2008, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خوف زدہ گوجر جموں میں

جموں (فائل فوٹو)
جموں کشمیر میں پر تشدد مظاہرے چند ہفتوں سے جاری ہیں
ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے جموں خطے کے مختلف علاقوں سے تقریبا تین سوگوجر مسلمان نقل مکانی کر کے جموں کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔

گوجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ قدم امرناتھ شرائن بورڈ کو دی گئی زمین دینے کے فیصلے کو واپس لینے کے خلاف احتجاج کر رہے افراد کی جانب سے دھمکیوں کے موصول ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔

جموں میں امرناتھ مندر بورڈ کے لیے شروع کی گئی تحریک کی قیادت امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی کر رہی ہے جس میں تقریبا پچاس سیاسی، سماجی اور تجارتی تنظیمیں اور جماعتیں شامل ہیں۔

سمیتی کا کہنا ہے:’نقل مکانی کی یہ کہانی ان عناصر کی جانب سے بتائی جا رہی ہے جو اس تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہيں۔ جبکہ اس تحریک میں جموں کے سبھی برادری اور مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔‘

 نقل مکانی کی یہ کہانی ان عناصر کی جانب سے بتائی جا رہی ہے جو اس تحریک کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہيں۔ جبکہ اس تحریک میں جموں کے سبھی برادری اور مذاہب کے لوگ شامل ہیں
امرناتھ یاترا سنگھرش سمیتی
امرناتھ شرائن بورڈ کے لیے شروع کی گئی تحریک ميں کئی مسلم تنظیموں نےبھی اپنی حمایت ظاہر کی ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے: ’ یہ ایک جائز مطالبہ ہے اور یہ آزادی کے بعد سے کشمیری رہنماؤں کی جانب سے جموں کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک کا نتیجہ ہے۔‘

نقل مکانی کرنے والوں میں بچے ، عورتیں اور مرد شامل ہیں اور انہیں جموں میں مسلم اکثریت والے سنجوان علاقے میں واقع ایک نجی سکول کی عمارت میں رکھا گیا ہے۔

پچاس سالہ لعل حسین نے بی بی سی کو بتایا: ’میں اپنے پانچ افراد والے خاندان کے ساتھ ہری نگر سے آیا ہوں۔( ہری نگر جموں سے اسّی کلومیٹر دور پر واقع ایک سرحدی گاؤں ہے)۔ ہماری رہائش گاہ پر مظاہرین کا گروپ آتا تھا، وہاں سے ہمارا دودھ لے جاتے تھے اور مذہبی نعرے بازی کرتے تھے۔‘

کھور گاؤں سے تعلق رکھنے والے محمد اکرم کا کہنا تھا: ’ پہلے دن مظاہرین ہمارے جانور لے گئے، پھر ہمارے گھروں کو آگ لگا کر سونے اور چاندی کے سارے زیورات لے گئے۔‘

 حکومت اور ہم نے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ لوگ اپنے گھر واپس حانے پر رضامند ہو گئے ہیں
چیف پیٹرن پروفسر ظہور الدین
انہوں نے بتایا کہ وہاں انہيں ڈر لگتا تھا اس لیے وہ اپنی برادری کے تیس افراد کے ساتھ جموں آ گئے ہیں۔

لیکن سنگھرش سمیتی کے ترجمان ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ’یہ تحریک مکمل طور پر سیکولر ہے اور سبھی سنگھرش سمیتی کے ساتھ ہیں۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ احتجاج گزشتہ دو مہینے سے جاری ہے لیکن یہ لوگ اتنے دنوں بعد نقل مکانی کیوں کر رہے ہیں۔

مسلم فرنٹ جموں سنگھرش سمیتی کی تحریک کو حمایت فراہم کر رہی ہے۔ تنظیم کے چیف پیٹرن پروفسر ظہور الدین کا کہنا ہے: ’حکومت اور ہم نے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ لوگ اپنے گھر واپس جانے پر رضامند ہوگئے ہیں۔‘

سرینگر میں مظاہرےکشمیرسراپااحتجاج
کشمیر میں مظاہرے، غم و غصہ
بھارتی فوجیفوج کی چڑھائی
سری نگر میں صرف دو دن میں بیس افراد ہلاک
کشمیریتاریخ کی گواہی
کشمیری کبھی بھی للکار قبول نہیں کرتے
خاک اور خون
کشمیر: مظاہرے اور ہلاکتیں، تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد