BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 10:28 GMT 15:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی قرارداد مداخلت ہے: انڈیا
مظاہرین
جموں میں 37 دنوں سے زمین کے تنازع پر پرتشدد مظاہرے ہو رہے ہيں
انڈیا کی حکومت نے پاکستان کی سینیٹ میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے حالات کے بارے میں قرارداد پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک کے اندورنی معاملے میں مداخلت قرار دیا ہے۔

پاکستان کے خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ’سینیٹ نے بدھ کو جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسندوں کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی کی حالیہ رپورٹ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی ہندو شدت پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔‘

انڈیا کے وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا نے اس بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے پاکستانی میڈیا میں پاکستانی سینیٹ کے جموں اور کشمیر کے بارے میں منظور کی گئی قرارداد پر رپورٹ دیکھی ہے۔ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہے۔‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے جموں میں امرناتھ شرائن بورڈ کی زمین منتقلی کی واپسی کے معاملے پر گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج ہو رہا ہے۔

ہندوستان کا رخ
 ’سینیٹ نے بدھ کو جموں کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف ہندو شدت پسندوں کی جانب سے اقتصادی ناکہ بندی کی حالیہ رپورٹ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ ساتھ ہی ہندو شدت پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں پر بھی تشویش ظاہر کی ہے
وزارت خارجہ

اسی کے سبب جموں سے سری نگر جانے والے قومی شاہراہ پرگاڑیوں کی آمد و رفت بند ہوجانے کی وجہ سے وادی میں عام زندگی بری طرح متاثر ہوئي ہے۔

دریں اثناء جموں اور کشمیر میں فوج نے متنبہ کیا ہے کہ امرناتھ معاملے پر جاری احتجاج کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند دوبارہ اپنی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

جنرل افسر کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ونے شرما نے جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ اگست تک کا وقت حساس ہے اور ہمیں خفیہ اداروں سے رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ شدت پسند جموں کشمیر میں حملہ کرسکتے ہیں اس لیے ہم چوکنا ہیں۔

وہيں دِلّی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سربراہی میں جموں کشمیر کے حالات پر طلب کیے ایک کل جماعتی اجلاس میں فیصلہ کیا گيا ہے کہ سنیچر کو ایک کل جماعتی وفد جموں کا دورہ کرے گا۔ اس وفد میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور وزیر داخلہ شوراج پاٹل بھی شامل ہوں گے۔

واضح رہے کہ امرناتھ شرائن بورڈ زمین تنازع کے سبب ہندو اکثریت والے جموں اور مسلم اکثریت والے خطے کشمیر میں مظاہروں کے سبب اب تک متعدد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

کشمیر: احتجاج آٹھویں روز بھی جاریاحتجاج جاری
کشمیر: زمین کی منتقلی، آٹھویں روز بھی مظاہرے
فائل فوٹوکشمیر احتجاج
شرائن بورڈ زمین کی منتقلی پر ہنگامہ کیوں؟
فائل فوٹویاترا پر پھر تنازعہ
سالانہ امرناتھ یاترا تنازعہ کا شکار
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد