BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 July, 2008, 13:50 GMT 18:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کولکتہ میں بھی خوف کا ماحول

ہائی کورٹ، فائل فوٹو
ای میل میں کولکاتہ ہائی کورٹ میں بھی دھماکے کرنے کی با ت کہی گئی ہے
ہندوستان میں بنگلور، احمدآباد میں سلسلے وار بم دھماکوں اور سورت میں یکے بعد دیگر دو دنوں میں انیس بموں کے ملنے کے بعد اب مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں خوف کا ماحول ہے۔

منگل کو کولکتہ میں بعض میڈیا اداروں کو دھمکی بھرے ای میل ملے تھے جس ميں شہر کے کئی مقامات پر دھماکے کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔

بی بی سی کولکتہ آفس کو بھی یہ ای میل ملا ہے۔

ای میل میں کہا گيا ہے کہ’ تم جو کرنا چاہو کر سکتے ہو، کر لو۔ لیکن ہمیں کولکتہ ميں دھماکے کرنے سے نہیں ررک سکتے۔ دھماکے دس بجے رات کو شروع ہوں گے۔‘

ای میل بھیجنے والے نے بعض علاقوں کے نام بھی بتائے ہیں جہاں دھماکے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ان مقامات میں کولکتہ ہائی کورٹ، تفریحی مقام، نکو پارک، پارک سٹریٹ، سالٹ لیک، پولو ہسپتال، پارک سرکس اور نیو علی پور شامل ہے۔

حالانکہ ہائی کورٹ اور نکو پارک میں رات کے وقت بھیڑ نہیں ہوتی ہے لیکن بقیہ تمام علاقے ایسے ہیں جو آبادی کے لحاظ سے گنجان ہیں۔ ای میل میں جو نام دیے گئے ہیں ان میں پارک سٹریٹ کے علاوہ تمام علاقوں میں رات کو لوگ سڑکوں پر بہت کم ہی ہوتے ہیں۔

خفیہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس قسم کی اطلاعات ہیں کہ کولکتہ میں مسلم شدت پسند تنظمیں سرگرم ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ ان تنظیموں نے دھماکے کا کوئي منصوبہ بنایا بھی ہوگا تو یہ ای میل سیکورٹی ایجینسیوں کو بظاہر گمراہ کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

پولیس کا موقف
 اس بات کے کم ہی امکان ہیں کہ وہ ان جگہوں پر دھماکے کريں گے جن کے نام لکھے ہیں۔ یہ ہم لوگوں کا دھیان ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے
صوبائی پولیس

صوبائی پولیس کی خصوصی شاخ کے ایک اعلی اہلکار کا کہنا ہے’اس بات کے کم ہی امکان ہے کہ وہ ان جگہوں پر دھماکے کريں گے جن کے وہ نام لکھے ہیں۔ یہ ہم لوگوں کا دھمیان ہٹانے کی کوشش ہوسکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’شدت پسند ریلوے سٹیشن، ہوائی اڈے یا بندر گاہ جیسے بھیڑ والے مقامات پردھماکے کر سکتے ہیں۔‘

پولیس نے شہر میں سیکورٹی سخت کر دی ہے اور تلاشی کا کام زور و شور سے شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ اور سنیچر کو بنگلور اور احمدآباد میں بالاترتیب سلسلے وار چوبیس بم دھماکے ہوئے تھے جس میں کم ازکم پچاس افراد ہلاک اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

ان دھماکوں کے بعد پولیس کا دعوی کیا ہے کہ اس نے صوبے گجرات کے شہر سورت اور تمل ناڈو کے شہر چینئی میں بھی اس قسم کے دھماکوں کی سازش کو نام کردیا ہے۔

اخباراتاحمد آباد دھماکے
سلسلہ وار دھماکوں پر انڈین اخباروں کی رائے
احمد آباد دھماکے(فائل فوٹو)دھماکے کے عینی شاہد
’بس رکی تو افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا‘
 بنگلور دھماکےبنگلور دھماکے
دھماکوں کا مقصد شہر میں دہشت پھیلانا تھا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد