اگر حکومت گر گئی تو کیا ہوگا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ميں سیاسی اعتبار سے اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد یعنی یو پی اے لوک سبھا میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے گی یا نہيں؟ اور اگر حکومت اکثریت ثابت نہیں کر پاتی ہے تو ممکنہ صورت حال کیا ہوگی؟۔ آئینی امور کے ماہر سبھاش کشیپ بتاتے ہیں کہ حکومت گرنے کی صورت میں صدر جمہوریہ کے سامنے دو راستے ہوں گے۔ وہ دوسری جماعتوں کو متبادل حکومت بنانے کا موقع دیں یا پھر لوک سبھا کو تحلیل کردیں تاکہ نیا انتخاب ہوسکے۔ موجودہ پارلیمان میں تین بڑے بلاک ہیں۔ کانگریس کی قیادت والا حکمراں یو پی اے، بی جے پی کی قیادت والا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور بایاں محاذ۔ اور تینوں کے نظریاتی اختلافات واضح ہیں۔ ان کے علاوہ اتر پردیش کی دو بڑی جماعتوں بہوجن سماج پارٹی اور سماجوادی پارٹی نے حال ہی میں اپنی سیاسی وابستگیاں بدلی ہیں۔ سبھاش کشیپ کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حکومت گر جاتی ہے تو ایسا لگتا نہيں ہے کہ کوئی متبادل حکومت بنے گی۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت بی جے پی تمام ہم خیال جماعتوں کی حمایت کے بعد بھی اکثریت سے بہت دور ہے۔ اور ایک حلقے کا خیال یہ بھی ہے کہ بی جے پی اس وقت جوڑ توڑ سے حکومت بنانے کے بجائے تازہ انتخابات کو ترجیح دے گی تاکہ مہنگائی سے ناراض لوگوں کی حکومت مخالف ووٹ سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ایسی صورت میں وسط مدتی انتخابات کا امکان ہی زیادہ قوی نظر آتا ہے۔ واضح رہے کہ 545 رکنی لوک سبھا میں دو سیٹیں خالی ہیں، جبکہ ایک رکن کی اہلیت رد کی جا چکی ہے، ایسے میں 542 ارکان پر مشتمل لوک سبھا میں حکومت کو مطلوبہ اکثریت کے لیے 272 ووٹوں کی حمایت درکار ہے۔ بائيں بازو کے 59 اراکین پارلیمان کی جانب سے حمایت واپس لینے کے بعد اقلیت میں آئی یو پی اے کی اتحادی حکومت کو 224 اراکین پارلیمان کی حمایت حاصل ہے۔ اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسے سب سے بڑا سہارا سماجوادی پارٹی کی جانب سے دیا گیا ہے۔ پارٹی کا دعوی ہے کہ ان کے 39 میں سے 35 اراکین اعتماد کی تحریک میں حکومت کے حق میں دیں گے۔ اور دیگر ووٹ انہیں آزاد امید وار اور علاقائی پارٹیوں سے حاصل ہو جائے گا۔ فی الوقت حکومت کے لیے ایک ایک ووٹ بیش قیمتی ہے۔ اور وہ کسی بھی علاقائی پارٹی کو ہاتھ سے جانے دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت کانگریس کی اتحادی حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ مطلوبہ اکثریت ان کے پاس ہے۔ لیکن سیاسیت کی تاریخ گواہ ہے کہ کبھی بھی کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس پوری کشمکش میں ترینا مول کانگریس کی جانب سے ووٹنگ کے موقع پر غیر حاضر رہنے، دو اراکین والی نیشنل کانفرنس کی جانب حکومت کے حق میں ووٹ دینے اور بھا رتیہ جنتا پارٹی کے ایک رکن کی جانب سے ووٹنگ کے دوران حکومت کے حق میں ووٹ دینے کے سبب حکومت کو کچھ راحت ملتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ منگل کو یہ تو واضح ہو جائے گا کہ حکومت کی قسمت میں کیا لکھا ہے۔ لیکن سرکار بچے یا نہ بچے کسی بھی صورت میں اگلے سال کے شروعات میں عام انتخابات ہونا طے ہے کیونکہ موجودہ حکومت چار سال پورے کر چکی ہے۔ |
اسی بارے میں منموہن حکومت کی مشکلات برقرار20 July, 2008 | انڈیا تحریکِ اعتماد پر سیاسی تناسب واضح نہیں20 July, 2008 | انڈیا ’اعتماد کا ووٹ مل جائے گا‘منموہن 15 July, 2008 | انڈیا ’جوہری معاہدے کو افشا کیا جائے‘09 July, 2008 | انڈیا حمایت واپسی سے جیوتی بسو ناخوش09 July, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||