جموں میں تصادم، چار ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے سانبا علاقے میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم میں ایک فوجی اور ایک فوٹو جرنلسٹ سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تصادم کا یہ واقعہ اتوار کی صبح جموں میں سابنا کے کیلی منڈی علاقے میں پیش آيا ہے۔ حکام کے مطابق دو شدت پسندوں نے صبح صبح اچانک گولی باری شروع کردی۔ جموں رینج کے ڈپٹی انسپکٹر حنرل آف پولیس فاروق خان کے مطابق اس فائرنگ میں ہوشیار سنگھ سامیال اور ان کی اہلیہ موقع پر ہلاک ہوگئے۔ جبکہ ہوشیار سنگھ سامیال کی بیٹی اور ان کے گھر پر آئے ایک مہمان زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں مقامی اخبار کا ایک فوٹو جرنلسٹ بھی ہے۔ جو تصادم کی تصویریں اتار رہا تھا۔ فوٹو گرافر کا نام اشوک سوڈھی بتایا گیاہے۔ فاروق خان کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے کے بعد شدت پسندوں نے ایک مکان میں پناہ لے رکھی ہے۔ سکیورٹی دستے نے اس مکان کو اپنے محاصرہ میں لے لیاہے اور دونوں طرف سے گولی باری کا سلسلہ رک رک کرجاری ہے۔ شدت پسندوں نے تصادم کے دوران گرنیڈ بھی استمعال کیے ہیں اور مکان میں موجود بعض افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یرغمال بنائے گئے لوگوں میں بعض خواتین اور بچے ہیں۔ سکیورٹی افواج کے مطابق مکان میں پناہ لیے ہوئے شدت پسندوں کی تعداد ممکنہ طور پر دو سے زيادہ بھی ہوسکتی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ تصادم والے علاقے میں کئی صحافی پھنسے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی دستوں نے فی الحال سیاحوں کو علاقے میں جانے سے روک دیا ہے۔ سیکورٹی دستے کے مطابق جمعرات کو ہوئے تصادم کے دوران یہ شدت پسند بھارتی کشمیر میں داخل ہوئے ہوں گے۔ حالانکہ اس سے قبل انٹیلی جینس ایجنسیوں نے اس بات سے انکار کیا تھا۔ | اسی بارے میں کشمیر: دو جنگجو کمانڈر محصور23 April, 2008 | انڈیا کشمیر: پانچ جنگجو ہلاک20 April, 2008 | انڈیا کشمیر: تین کمانڈر تین جنگجو ہلاک09 April, 2008 | انڈیا کشمیر میں حزب المجاہدین کمزور؟ 07 April, 2008 | انڈیا کشمیر: رضاکاروں کی عوامی عدالت06 April, 2008 | انڈیا کشمیر: قیدیوں کے حق میں احتجاج04 April, 2008 | انڈیا گمنام قبروں کی تحقیقات سے انکار02 April, 2008 | انڈیا کشمیر میں’تصادم‘، پانچ ہلاک23 March, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||