BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 08:58 GMT 13:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: دو جنگجو کمانڈر محصور

فائل فوٹو
پچھلے کئی ماہ سے جگنجوؤں کے خلاف فوج اور پولیس مسلسل آپریشن کررہی ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے شمالی ضلع بارہمولہ میں فوج نے دو مسلح جنگجوؤں کو ایک رہائشی مکان میں محصور کردیا ہے، تاہم جنگجوؤں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان منگل کی شب سے گولیوں کا تبادلہ جاری ہے۔

اس دوران مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ قصبہ میں ہڑتال ہوگئی ہے اور جائے واردات سے دو کلومیٹر دُور مقامی نوجوان فوج اور پولیس کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

ضلع پولیس حکام نے بتایا کہ بارہمولہ کے خواجہ باغ علاقے میں ممنوعہ حزب المجاہدین کے دو کمانڈروں کی موجودگی کے بارے میں ’مصدقہ اطلاع‘ ملنے پر فوج اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے منگل کی شام ساڑھے نوبجے حیدرکالونی کا محاصرہ کیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نصف شب کے بعد فریقین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا، جو آخری خبریں آنے تک جاری ہے۔

پولیس کے مطابق ممنوعہ حزب المجاہدین کے دو اعلیٰ کمانڈر تنویر اور امتیاز پچھلے کئی سال سے مطلوب تھے۔ منگل کے روز ان کی نقل وحرکت کے بارے میں پولیس نے خفیہ اطلاع ملنے پر فوج کے ساتھ رابطہ کرکے خواجہ باغ علاقے کا شبانہ محاصرہ کرلیا۔

 پچھلے کئی ماہ سے جگنجوؤں کے خلاف فوج اور پولیس مسلسل آپریشن کر رہی ہے جن میں متعدد جنگجو کمانڈر ہلاک ہوئے ہيں

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ مسلح جنگجو رات کے دوران مشتاق احمد نامی شہری کے مکان میں چھپے تھے، لیکن بدھ کی صبح جب آپریشن میں شدت آئی تو وہ نزدیکی مکان میں منتقل ہوگئے۔

مذکور افسر کا کہنا ہے’علاقے کو خالی کر دیا گیا ہے، پھر بھی اگر وہاں کوئی باشندہ ہے تو اسے بحفاظت نکالا جائے گا۔‘

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کئی افراد منگل کی شام سے ہی لاپتہ ہیں۔ محمد شعبان نامی ایک تاجر نے بتایا کہ ’جھڑپ کے دوران معمول ہے کہ لوگ خوف کی وجہ سے دوسری بستی میں چلے جاتے ہیں، لیکن کئی کنبے اپنے اقربا کی عافیت سے متعلق فکر مند ہیں۔‘

مقامی رہائشی عمر ڈار کے مطابق تصادم کے دوران مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر جمع ہونے لگی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور آپریشن ختم ہوتے ہی معمول پر آجائینگے۔

پچھلے کئی ماہ سے جگنجوؤں کے خلاف فوج اور پولیس مسلسل آپریشن کر رہی ہے جن میں متعدد جنگجو کمانڈر ہلاک ہوئے ہيں۔ وادی کے مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں کا معمول ہے کہ وہ فوج اور پولیس کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں اور مارے گئے جنگجوؤں کی تدفین کے لیے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
کشمیر: پانچ جنگجو ہلاک
20 April, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد