BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 March, 2008, 11:47 GMT 16:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر دھماکہ:شہر میں سکیورٹی الرٹ

 کشمیر دھماکہ
پچھلے چھہ ماہ سے سرینگر میں کوئی پرتشدد واقع نہیں ہوا تھا
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں بدھ کو ہونے والے بم دھماکے بعد شہر میں پولیس اور نیم فوجی عملہ کی گشت بڑھا دی گئی ہے۔ اس دھماکے میں ایک شہری ہلاک جبکہ اکیس دیگر زخمی ہوگئے تھے۔

تاہم شہری علاقوں میں تعینات ہندوستان کی مرکزی پولیس فورس، سی آر پی ایف کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو قطعی طور پر روکنا ناممکن ہے۔

قابل ذکر یہ ہے کہ یہ دھماکہ ایسے وقت ہوا ہے جب ریاستی حکومت ہندوستان اور بیرون ممالک سیاحوں کو کشمیر کی سیر پر آمادہ کرنے کے لیے ایک مہم چلا رہی ہے۔

واضح رہے کہ دو ہزار چھ میں سیاحوں پر متواتر حملے اور سرینگر کے مرکزی بازاروں میں بم دھماکوں کے سلسلے کے بعد سیاحوں کی تعداد میں پچاس فی صد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔

لیکن حکومت کے سیکریٹری برائے سیاحت نعیم اختر تازہ بم حملہ کے باوجود پُرامید ہیں کہ اس سال سیلانیوں کی تعداد ایک ریکارڑ قائم کرے گی۔

 یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب ریاستی حکومت ہندوستان اور بیرون ممالک سیاحوں کو کشمیر کی سیر پر آمادہ کرنے کے لیے ایک مہم چلا رہی ہے

بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا ’ایسے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں۔ دھماکے کے ایک روز بعد دلّی سے ساری پروازیں بُک ہیں اور اگلے دو روز کے لیے کوئی ٹِکٹ دستیاب نہیں۔ اس سال تو ہم اُنیس سو نواسی کا ریکارڑ قائم کرینگے۔‘

مسٹر اختر کا مزید کہنا ہے کہ ان کا محکمہ بروڈہ ،اندور، سورت اور پونا جیسے ہندوستانی شہروں کے ساتھ ساتھ لندن، نیویارک اور دبئی میں روڑ شوز کا اہتمام کر رہا ہے جبکہ مئی میں متحدہ عرب امارات میں جو عرب ٹورزم مارٹ منعقد ہورہا ہے اس میں کشمیر ٹورزم کے حوالے سے مخصوص سرگرمیاں ہونگی۔

لیکن حکومت کی اس خُوش اُمیدی کے باوجود سیکورٹی ایجنسیاں موجودہ حالات میں ’مکمل نارملسی‘ کا اعلان کرنے سے انکار کررہی ہیں۔

شہری علاقوں میں انسداد دہشت گردی کے لیے تعینات پولیس کے ہمراہ سرگرم سی آر پی ایف کے ترجمان سُدھانشو سنگھ نے بتایا ’گرمیوں میں عمومی طور پر عسکریت پسند سرگرم ہوجاتے ہیں۔ ہم ان حملوں کو روک تو نہیں سکتے، کیونکہ گوریلا جنگ میں حملہ آور پوشیدہ رہتا ہے، لیکن پھر بھی یہ چوکسی کا ہی نتیجہ ہے کہ چھہ ماہ تک لال چوک یا گردونواح میں کوئی بڑا بم حملہ نہیں ہوا۔‘

اس دوران پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کی اہم شاہراہوں پر پولیس اور نیم فوجی عملہ کی گشت بڑھا دی گئی ہے اور حساس سرکاری و فوجی تنصیبات کے گرد بھی خصوصی سیکورٹی انتظامات کئے جارہے ہیں۔

کشمیرزندگی ہی بدل گئی
کشمیر میں زندگی کے رنگ پھیکے پڑ گئے
کشمیر مذاکرات
130 بار مذاکرات ہوئے، کیا ملا: سید علی گیلانی
اسی بارے میں
کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک
09 November, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد