کشمیر میں’تصادم‘، پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں اتوار کی صبح سکیورٹی دستوں اور شدت پسندوں کے درمیان تصادم میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین پولیس اہلکار، ایک نیم فوجی دستےکا جوان جبکہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا ایک کمانڈر شامل ہے۔اس تصادم میں دو پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہيں۔ ریاستی دارالحکومت سری نگر کے باہری علاقے میں سکیورٹی دستوں اور شدت پسندوں کے درمیان چھڑپ اتوار کی صبح شروع ہوئي اور دوپہر کوختم ہوئي،اس دوران دونوں طرف سے فائرنگ کا زبردست تبادلہ ہوا۔ سری نگر کے باہری حصے تلبل میں یہ تصادم اس قت شروع ہوا جب سکیورٹی دستوں نے وہاں چھپے شدت پسندوں کو گھیرے میں لے کر حملہ کر دیا۔ پولیس اور سکیورٹی دستوں نے تلبل کے نزدیک واقع ایک گاؤں کو اپنے محاصرے میں لیا ہوا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہےکہ مزید جھڑپیں ہوسکتی ہیں۔ اتوار کی صبح ہونے والے تازہ حملے کے بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے اس دعوی کو بظاہر دھچکا پہنچا ہے جس میں یہ کہا گيا تھا کہ ریاست میں شدت پسندی پر بہت حد تک قابو پالیا گيا ہے۔ تین روز قبل بدھ کو شدت پسندوں نے سری نگر کے جہانگیر چوک کے فلائی اوور کو حملے کا نشانہ بنایا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور بیس سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ یہ دھماکہ فلائی اوور کے نیچے بنے عارضی پولیس چوکی میں ’آئی ای ای ڈی‘ کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ |
اسی بارے میں سرینگر دھماکہ:شہر میں سکیورٹی الرٹ20 March, 2008 | انڈیا سرینگر دھماکہ، ایک ہلاک19 March, 2008 | انڈیا کشمیر: میجر سمیت چھ ہلاک09 November, 2007 | انڈیا سرکاری اور غیر سرکاری یوم شہداء13 July, 2007 | انڈیا ’بیس ڈالر لے کر بم پھینکا تھا‘ 11 November, 2006 | انڈیا کشمیر: مسجد پر بم حملہ، 5 ہلاک10 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||