BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 February, 2008, 13:01 GMT 18:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
تیل: فائل فوٹو
اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں جون 2006 میں اضافہ کیا گیا تھا
ہندوستان کی حکومت نے کئی ہفتوں کی کشمکش اور الجھن کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔

کابینہ کی میٹنگ کے بعد پٹرولیم کے وزیر مرلی دیورا نے بتایا کہ پٹرول کی قیمت میں دو روپے اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق جمعرات کی نصف شب سے ہو گا۔

اس اضافے کے ساتھ دلی میں پٹرول کی قیمت پینتالیس روپے باون پیسے فی لیٹر اور ممبئی میں تقریباً اکیاون روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔

اس مہینے کے اواخر میں ملک کا عام بجٹ پیش کیا جانے والا ہے اور ساتھ ہی کئی ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کئی وزراء تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سخت مخالفت کر رہے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں قیمتوں میں اضافے سے انتخابی نتائج پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

لیکن وزیر خزانہ پی چدامبرم کا کہنا ہے کہ عالمی بازاروں میں پٹرول کی قیمتوں میں زبردست اضافے سے ملک کی سرکاری کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔اور اب صورتحال ایسی ہوگئی تھی کہ بڑھی ہوئی قیمتوں کا کچھ بوجھ صارفین پر ڈالنا ناگزیر ہو چکا تھا۔

 ہم نے سرکار سے کہا آپ پٹرول پر اکسائز گھٹائیے، آپ کسٹمز ڈیوٹی کم کیجیئے۔ ان اقدامات سے تیل کی قیمت بڑھانے کی ضرورت نہیں پڑتی
بائیں محاذ کے رہنما اے بی بردھن

قیمتوں میں اس اضافے سے صرف فروری اور مارچ کی فروخت سے ہی سرکاری تیل کمپنیوں کو 840 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔

اس سے قبل تیل کی قیمتوں میں جون 2006 میں اضافہ کیا گیا تھا۔

حکومت کے اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر شدید نکتہ چینی کی ہے ۔

بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ بازار میں سبھی چیزوں کے دام پہلے ہی بڑھے ہوئے ہیں اور اس فیصلے سے مہنگائی اور بڑھے گی۔

بائیں محاذ کے رہنما اے بی بردھن نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی بازار میں بڑھی ہوئی قیمتوں کا ا ثر دوسرے طریقوں سے بھی کم کیا جا سکتا تھا ۔’ ہم نے سرکار سے کہا کہ آپ پٹرول پر اکسائز گھٹائیے، آپ کسٹمز ڈیوٹی کم کیجیئے۔ ان اقدامات سے تیل کی قیمت بڑھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

عوام میں عام طور پر قیمتوں میں اضافے کے خلاف ردعمل ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کمپنیوں کے بڑھتے ہو ئے خسارے کو پورا کرنے کے لیے متوسط طبقے کو یہ بوجھ اٹھانا ہی پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی بھی اس بات سے آگاہ ہے۔ لیکن انتخابات کے پیش نظر اس بات کی قطعی امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ حکومت کے فیصلے کی حمایت کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد