BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 November, 2007, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممتابنرجی مستعفی ہوجائیں گی
نندی گرام میں تشدد
نندی گرام میں تشدد کو روکنے کے لیے سکیورٹی کے بند و بست کیے گئے ہیں لیکن تصادم میں کمی نہیں آئی ہے۔
ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی نے نندی گرام میں جاری تشدد کے خلاف بطور احتجاج پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اسی مسئلے پر ریاست کےگورنر نے بھی حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

حکمراں جماعت مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی نے گورنر کے بیان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

سنیچر کو تازہ تشدد میں وہاں ایک اور شخص ہلاک ہوا ہے اور ممتا بنرجی نے تشدد کے خلاف پوری ریاست میں تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ریاست میں حکمراں بائيں بازو کے اتحاد کے کنوینر بمان بوس نے گورنر کے ایک بیان پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ گورنر کو اپنے عہدے کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔

جمعہ کی رات کو مغربی بنگال کےگورنر گوپال گاندھی کی طرف سے جاری ایک بیان میں نندی گرام کے حالات پر گہری تشویش ظاہر کی گئي تھی۔ بیان کے مطابق ’ نندی گرام میں بڑی تعداد میں مسلح افراد موجود ہیں، ہزاروں گاؤں والے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہيں اور نندی گرام ایک جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘

گورنر نے تشدد پر قابو نہ پانے اور سماجی کارکن میدھا پاٹیکر پر ہونے والے مبینہ حملے کے لیے بھی ریاستی حکومت پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ جمعہ کو سماجی کارکن میدھا پاٹیکر کے قافلے پر مبینہ طور پر حکمراں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے حملہ کیا تھا۔ محترمہ پاٹیکر اس وقت نندی گرام جانے کے لیے راستے میں تھیں۔

بمان بوس کا کہنا تھا کہ گورنر کا یہ بیان صاف طور پر جانبداری کا ثبوت پیش کرتا ہے۔

’ گورنر کے لیے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کی موت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ تبھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں جب کسی اور کی ہلاکت ہو۔‘

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اب گورنر کو ہٹانے کا مطالبہ کريں گے تو ان کا کہنا تھا ’ میں ایسا نہيں کہوں گا لیکن اتنا ضرور ہے کہ مغربی بنگال کے لوگ نہیں چاہتے کہ گورنر جانبداری کا مظاہرہ کریں۔‘

نندی گرام میں حالیہ دنوں کے تشدد کے واقعات میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور تقریباً تیس زخمی ہوئے ہيں۔ اس کے علاوہ پانچ ہزار سے زیادہ افراد کو اس وقت اپنے گھر چھوڑنے پڑے جب مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے نندی گرام میں ان کے گھروں پر حملہ کر دیا۔ سی پی ایم کے کارکن ان مقامات پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہيں جہاں سے اس برس مارچ میں ان کا قبضہ ختم ہو گیا تھا۔

ادھر میدھا پاٹیکر نے نندی گرام کے حالات پر بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب تک انہيں نندی گرام جانے نہیں دیا جائے گا تب تک ان کی بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔

نندی گرام میں کافی دنوں سے زمین کے الاٹ منٹ کی مخالفت کر نے والی کمیٹی ’ بھومی اچھید پرتیرودھ سمیتی‘ کے کارکنوں اور حکمراں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں جس سے وہاں کا ماحول کشیدہ ہے۔

انڈیا کے کمیونسٹ
مغربی بنگال: بائیں بازو کی کامیابی کا راز
سراج الدولہبنگال کا بلیک ہول
سراج الدولہ کا بلیک ہول حقیقت یا افسانہ
 ہتھ رکشہکولکتہ کے ہتھ رکشہ
’اب اس عمر میں آٹو چلانا کیسے سیکھیں‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد