نندی گرام: ہلاک شدگان میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نندی گرام میں کسانوں کے مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔ فائرنگ سے کم از کم پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد مغربی بنگال میں خصوصی اقتصادی خطے کے قیام کے خلاف افراد بدھ کو مظاہرے کے دوران پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ مغربی بنگال کی حکومتی جماعت کے اتحادیوں نے بھی کسانوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ ریاست کےگورنر گوپال کرشن گاندھی نے اس واقعے کو خوفناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پولیس اس کارروائی سے بچ سکتی تھی۔
نندی گرام کے کسان مجوزہ کیمیائی صنعت کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں اور ان کسانوں کو روکنے کے لیے تقریباً پانچ ہزار پولیس والوں کو صنعت کے لیے الاٹ کی گئي زمین کے آس پاس تعینات کیا گیا ہے۔ کسانوں کو حزب اختلاف کی اہم جماعت ترنمول کانگریس کی حمایت حاصل ہے اور ترنمول کانگریس نے پولیس فائرنگ کے خلاف ریاست میں جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سات جنوری کو نندی گرام میں چھ افراد کی ہلاکت کے بعد پولیس نے مجوزہ ایس ای زیڈ کے لیےالاٹ کی گئی زمین پر کسانوں کے جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ اس سے قبل بھی ریاست میں ایک نجی کمپنی ٹاٹا موٹرز کو کار بنانے کے لیے سینگورعلاقہ میں زرعی زمین الاٹ کرنے پر ریاستی حکومت کو زبردست مخالف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ | اسی بارے میں کسانوں پر فائرنگ، متعدد ہلاک14 March, 2007 | انڈیا مجوزہ صنعتکاری، کسانوں کا احتجاج09 January, 2007 | انڈیا مغربی بنگال میں ہڑتال اور تشدد08 January, 2007 | انڈیا بھوک ہڑتال سے ممتا کی حالت خراب29 December, 2006 | انڈیا انڈیا: ایک ارب ڈالر کا قرضہ 12 December, 2006 | انڈیا مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج08 December, 2006 | انڈیا مغربی بنگال میں کسانوں کا احتجاج03 December, 2006 | انڈیا مغربی بنگال: ہڑتال سے زندگی متاثر01 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||