BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 December, 2006, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج

مغربی بنگال میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ
زرعی اراضی نجی کمپنی کو الاٹ کرنے کی مخالفت میں مظاہرہ ہو رہا تھا
مغربی بنگال میں پولیس نے بائیں بازوں کی ایک تنظیم کے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔

مارکسی لیننسٹ پارٹی آف انڈیا کے یہ کارکنان سنگور علاقے میں حکومت کی جانب سے زرعی اراضی نجی کمپنی کو الاٹ کرنے کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہے تھے۔

ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین مغر بی بنگال کے سنگور علاقے کی طرف مارچ کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ پولیس نے شیوراپلی علاقے کے قریب گرینڈ ٹرنک روڈ پر انھیں روکنے کی کوشش کی جس کےنتیجے میں مظاہرین مشتعل ہو گئے اور پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔

مارکسی لیننسٹ پارٹی آف انڈیا کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں ان کے کم از کم چالیس کا رکن زخمی ہوگئے ہیں اور ایک سو بیس سے زائد کارکنان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

ریاستی حکومت نے ملک میں آٹو موبائل تیار کرنے والی ایک نجی کمپنی ٹاٹا موٹرز کو گاڑیاں بنانے کی فیکٹری کے لیے سنگور علاقے میں ایک ہزار ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مارکسی لیننسٹ پارٹی آف انڈیا ریاستی حکومت کی جانب سے زرعی اراضی نجی کمپنی ٹاٹا کو الاٹ کرنے کی مخالفت کر رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ فیکٹری کسانوں کی زرخیز زمین پر لگائی جا رہی ہے اور اس سے بڑی تعداد میں کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہوگی۔

اسی جھڑپ میں کئی صحافی اور کمیرہ مین بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

ریاست کے وزیر اعلی بددھادیو بھٹاچاریہ نے صحافیوں کے زخمی ہونے پر افسوس ظاہر کیا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ پولیس کو پر تشدد مظاہرین کے خلاف طاقت کا استمعال کرنا پڑا۔

مسٹر بھٹاچاریہ نے صحافیوں کو بتایا کہ ٹاٹا پروجیکٹ کے لیے حکومت نو سو ستانوے ایکڑ زمین حاصل کر چکی ہے ۔ اس زمین پر باڑ لگا دی گئی ہے اور ٹاٹا کمپنی یہ زمین حکومت سے لے سکتی ہے۔ ہم اس پراجیکٹ کے مخالفین کی طرف سے پیدا کی گئی کسی طرح کی کوئی رکاوٹ قبول نہیں کرے گیں۔

ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت ترنمول کانگریس نے بھی حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔ ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بینرجی نے حکومت سے اس منصوبے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے وہ پیر سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

حکومت نے محترمہ بینرجی کو خط لکھ کر بھوک ہڑتال ختم کرنے کو کہا ہے لیکن محترمہ بینرجی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال تب تک ختم نہیں کرے گیں جب تک حکومت یہ پراجیکٹ کسی دوسرے علاقے میں منتقل نہیں کرتی۔
کسانوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ان کی زمین کے لیے انہیں مناسب معاوضہ نہیں دے رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد