مغربی بنگال: ناقابل شکست بایاں محاذ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے ریاستی انتخابات میں ایک بار پھر کمیونسٹ جماعتیں ایک سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ مغربی بنگال میں گزشتہ 29 برسوں میں سی پی ایم یعنی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسِسٹ) کی یہ ساتویں جیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی مغربی بنگال میں اگلے پانچ سالوں تک اقتدار میں رہے گی اور اسکے ساتھ ہی اقتدار میں اس کے 35 برس پورے ہوجائیں گے۔ انٹرنیٹ پر عوامی اِنسائیکلوپیڈیا ’وکیپیڈیا‘ کی ایک ریسرچ کے مطابق مغربی بنگال میں جمہوری طریقے سے منتخب دنیا کی سب سے طویل المیعاد کمیونسٹ حکومت ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ صحافی اندرانی چکرورتی کا کہنا ہے کہ ’مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پارٹی نے امیر لوگوں کی زمین غریبوں میں تقسیم کی ہے اور یہ کام انہوں نے 80 کی دہائی میں کیا تھا۔‘ دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا کی دوسری کمیونسٹ پارٹیوں کی طرح مغربی بنگال میں بھی کمیونسٹ پارٹی اپنا بڑا نیٹ ورک بنانے میں کامیاب رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ریاست میں کمیونسٹ پارٹی یا لیفٹ فرنٹ کو زبردست کامیابی حاصل ہوتی رہی ہے۔ مکھرجی نے مزید کہا کہ ’ریاست میں تقریبا پونے پانچ کروڑ ووٹرز ہیں جس میں سے تقریبا دو کروڑ رائے دہندگان کمیونسٹ پارٹی کی یونین کے رکن ہیں۔ اسی لیے ان کی جیت یقینی ہوجاتی ہے۔‘ مغربی بنگال میں تقریبا 20 فی صد مسلم رائے دہندگان ہیں اور روایتی طور پر مسلم بائیں محاذ کے حامی رہے ہیں۔ گزشتہ تیس برسوں میں یہاں ایک بار بھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ کولکتہ میں الیکٹرانک سامان کی تجارت کرنے والے ضیا علی کا کہنا ہے کہ ’اترپردیش میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات اور گجرات میں مسلم کش فسادات کے بعد میرے بہت سے رشتہ دار اپنے شہر چھوڑ کر یہاں آئے اور سی پی آئی ایم کے ووٹرز بن گۓ۔‘ لیکن ضیا کو یہ بھی لگتا ہے کہ حال میں مسلم ووٹروں میں کمی آئی ہے۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ان کے سماجی اور معاشی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
ریاست میں کمیونسٹ پارٹی کی مضبوطی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی میں اختلافات کم ہوئے ہیں اور جماعت کبھی ٹوٹی بھی نہیں ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کوئی بھی پارٹی اگر اقتدار میں ہو تو وہ جلدی بکھرتی نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہوئی ہے۔ اور بڑی کمپنیوں کے نہ ہونے سے روز گار کے مواقع کم ہیں۔ لیکن حکومت نے سڑک کے کنارے چھوٹی دکانیں اور ٹیکسی اسٹینڈ لگانےکی اجازت دے دی ہے۔ اس ریاست کی اقتصادی ترقی میں تو تیزی نہیں آئی ہے لیکن غریب طبقے کی روزی روٹی کا سہارا ضرور ہے۔ اس بار سی پی ایم کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ کی کرشماتی شخصیت بھی ہے جو لبرل پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی زبردست انتخابی مہم نے اچھا اثر چھوڑا ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال میں اپوزیشن بہت کمزور ہے اور اس بار تو کچھ زیادہ ہی کمزور ثابت ہوا ہے۔ ساتویں بار اقتدار میں آنے کے بعد بائیں محاذ کے سامنے سب سے بڑا چیلنچ یہ ہے کہ وہ غربت کا خاتمہ کیسے کرے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرسکے۔ ظاہر ہے بنگال کے عوام اب زیادہ دنوں تک مفلسی کی زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’اب تبدیلی ضروری ہے،21 April, 2006 | انڈیا سونیا گاندھی، بایاں محاذ کامیاب11 May, 2006 | انڈیا نئی حکومتوں کی تشکیل کی تیاریاں 12 May, 2006 | انڈیا مغربی بنگال:تیسرے مرحلے کی ووٹنگ 27 April, 2006 | انڈیا کیرالا، دوسرے مرحلے کی پولنگ29 April, 2006 | انڈیا کیرالا میں مسلم ووٹ تقسیم ہوگیا27 April, 2006 | انڈیا مغربی بنگال اور کیرالہ میں پولنگ 22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||