BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 May, 2006, 16:31 GMT 21:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال: ناقابل شکست بایاں محاذ

مغربی بنگال میں کمیونسٹ انتیس برسوں سے برسراقتدار ہیں
ہندوستان کے ریاستی انتخابات میں ایک بار پھر کمیونسٹ جماعتیں ایک سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ مغربی بنگال میں گزشتہ 29 برسوں میں سی پی ایم یعنی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسِسٹ) کی یہ ساتویں جیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی مغربی بنگال میں اگلے پانچ سالوں تک اقتدار میں رہے گی اور اسکے ساتھ ہی اقتدار میں اس کے 35 برس پورے ہوجائیں گے۔

انٹرنیٹ پر عوامی اِنسائیکلوپیڈیا ’وکیپیڈیا‘ کی ایک ریسرچ کے مطابق مغربی بنگال میں جمہوری طریقے سے منتخب دنیا کی سب سے طویل المیعاد کمیونسٹ حکومت ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟

صحافی اندرانی چکرورتی کا کہنا ہے کہ ’مغربی بنگال میں کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار میں آنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پارٹی نے امیر لوگوں کی زمین غریبوں میں تقسیم کی ہے اور یہ کام انہوں نے 80 کی دہائی میں کیا تھا۔‘

دوسری اہم بات یہ ہے کہ دنیا کی دوسری کمیونسٹ پارٹیوں کی طرح مغربی بنگال میں بھی کمیونسٹ پارٹی اپنا بڑا نیٹ ورک بنانے میں کامیاب رہی ہے۔
کولکتہ یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر سنجیو مکھرجی کا کہنا ہے ’کمیونسٹ پارٹی کی یونینز میں سماجی اور سیاسی اعتبار سے ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ غریب مزدوروں سے لیکر ڈاکٹر، کالج پروفیسرز اور ٹیکسی ڈرائیور تک سبھی ان کی یونین کا حصہ ہیں۔ ایسی یونیینز کسی دوسری پارٹی میں نہیں پائی جاتی ہیں۔‘

تمام طبقات کی نمائندگی
 کمیونسٹ پارٹی کی یونینز میں سماجی اور سیاسی اعتبار سے ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ غریب مزدوروں سے لیکر ڈاکٹر، کالج پروفیسرز اور ٹیکسی ڈرائیور تک سبھی ان کی یونین کا حصہ ہیں۔ ایسی یونیینز کسی دوسری پارٹی میں نہیں پائی جاتی ہیں۔
پروفیسر سنجیو مکھرجی

یہی وجہ ہے کہ ریاست میں کمیونسٹ پارٹی یا لیفٹ فرنٹ کو زبردست کامیابی حاصل ہوتی رہی ہے۔

مکھرجی نے مزید کہا کہ ’ریاست میں تقریبا پونے پانچ کروڑ ووٹرز ہیں جس میں سے تقریبا دو کروڑ رائے دہندگان کمیونسٹ پارٹی کی یونین کے رکن ہیں۔ اسی لیے ان کی جیت یقینی ہوجاتی ہے۔‘

مغربی بنگال میں تقریبا 20 فی صد مسلم رائے دہندگان ہیں اور روایتی طور پر مسلم بائیں محاذ کے حامی رہے ہیں۔ گزشتہ تیس برسوں میں یہاں ایک بار بھی فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

کولکتہ میں الیکٹرانک سامان کی تجارت کرنے والے ضیا علی کا کہنا ہے کہ ’اترپردیش میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد فرقہ وارانہ فسادات اور گجرات میں مسلم کش فسادات کے بعد میرے بہت سے رشتہ دار اپنے شہر چھوڑ کر یہاں آئے اور سی پی آئی ایم کے ووٹرز بن گۓ۔‘

لیکن ضیا کو یہ بھی لگتا ہے کہ حال میں مسلم ووٹروں میں کمی آئی ہے۔ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ ان کے سماجی اور معاشی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

وزیراعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ ایک مقبول رہنما ثابت ہوئے ہیں
مرشدآباد اور مالدہ ضلعوں میں مسلمان بڑی تعداد میں ہیں اور وہاں بیشتر لوگ غربت کا شکار ہیں۔ سیّد میر علی کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں ’دریائے گنگا پھیلتا جا رہا ہے جس کے سبب ان کی زمین بھی کم ہوتی جارہی ہے۔اس کے باعث لوگوں میں بڑی ناراضگی ہے اور اسی لیے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اب سی پی ایم سے دور ہوتا جارہا ہے۔‘

ریاست میں کمیونسٹ پارٹی کی مضبوطی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی میں اختلافات کم ہوئے ہیں اور جماعت کبھی ٹوٹی بھی نہیں ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کوئی بھی پارٹی اگر اقتدار میں ہو تو وہ جلدی بکھرتی نہیں ہے۔

مغربی بنگال میں بیرونی سرمایہ کاری کم ہوئی ہے۔ اور بڑی کمپنیوں کے نہ ہونے سے روز گار کے مواقع کم ہیں۔ لیکن حکومت نے سڑک کے کنارے چھوٹی دکانیں اور ٹیکسی اسٹینڈ لگانےکی اجازت دے دی ہے۔ اس ریاست کی اقتصادی ترقی میں تو تیزی نہیں آئی ہے لیکن غریب طبقے کی روزی روٹی کا سہارا ضرور ہے۔

اس بار سی پی ایم کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ وزیر اعلیٰ بدھا دیب بھٹا چاریہ کی کرشماتی شخصیت بھی ہے جو لبرل پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ان کی زبردست انتخابی مہم نے اچھا اثر چھوڑا ہے۔ ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی بنگال میں اپوزیشن بہت کمزور ہے اور اس بار تو کچھ زیادہ ہی کمزور ثابت ہوا ہے۔

ساتویں بار اقتدار میں آنے کے بعد بائیں محاذ کے سامنے سب سے بڑا چیلنچ یہ ہے کہ وہ غربت کا خاتمہ کیسے کرے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرسکے۔ ظاہر ہے بنگال کے عوام اب زیادہ دنوں تک مفلسی کی زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
’اب تبدیلی ضروری ہے،
21 April, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد