BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 09:19 GMT 14:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت ہمیں بھکاری بنانا چاہتی ہے‘

ہتھ رکشہ
کولکتہ میں قریباً چھ ہزار لائسنس شدہ رکشے ہیں
کولکتہ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناعی سے شہر سے ہتھ رکشوں کے خاتمے کے حکومتی منصوبے کو دھچکا پہنچا ہے۔

مغربی بنگال کی بائیں بازو کی حکومت نے دسمبر دو ہزار چھ میں اسمبلی میں ایک بل پاس کر کے کولکتہ کی سڑکوں سے ہتھ رکشہ یکم جولائی سے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔ تاہم اس حکومتی بل کے خلاف ’ کولکتہ رکشہ چالک پنچایت‘ نے کولکتہ ہائي کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی جس پر عدالت نے رکشے ختم کرنے کے فیصلے پر عارضی پابندی لگا دی ہے۔

ترنمول کانگریس کے سلطان احمد جو کہ بنگال رکشہ یونین کے صدر بھی ہيں کہتے ہیں’یہ ہماری پہلی جیت ہے لیکن لڑائي ابھی جاری ہے ہم اس بل کو بدلوانے کی جنگ ہر محاذ پر لڑیں گے‘۔

مغربی بنگال میں انیس سو اٹھہتر میں کمیونسٹوں نے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک دو بار ہتھ رکشوں پر پابندی لگانے کی کوشش کی ہے لیکن اپوزیشن اور رکشہ یونیوں کے دباؤ اور شدید مخالفت کی وجہ سے انہیں کامیابی نہيں مل پائی ہے۔

 ہم چالیس سال سے عزت کے ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنے گھروالوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اس میں بےعزتی کی کون سی بات ہے اب اس عمر میں ہم آٹو چلانا کس طرح سیکھ سکیں گے۔ حکومت تو ہم کو بھکاری بنانا چاہتی ہے
شوکت علی

وزیرِاعلٰی بدھادیب بھٹا چارجی کا خیال ہے کہ’ ہتھ رکشہ انسانی غلامی کی علامت ہے۔ یہ غیر انسانی ہے اور بہت بدصورت ہے‘ جبکہ کولکتہ کے میئر بکاش رنجن بھٹاریہ چاریہ کہتے ہیں کہ’یہ ایک غیر مہذب طریقہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کھینچتا ہے۔غربت کا مطلب یہ نہیں کہ ایک انسان اس غیر انسانی اور غیر مہذب پیشے کو اختیار کرے اور دوسروں کو ڈھوئے‘۔

کولکتہ میں قریباً چھ ہزار لائسنس شدہ رکشے ہیں جبکہ غیر لائسنس شدہ رکشوں کی تعداد قریباً چودہ ہزار ہے۔ رکشہ مالکوں، کنٹریکٹرز اور رکشہ کھینچنے والوں کو شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر تقریباً پینتیس ہزار لوگ اس روزگار سے وابستہ ہیں۔

آل بنگال رکشہ یونین کے ایگزیکٹو ممبر انوار حسین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اگر ہتھ رکشوں پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو پہلے ان لوگوں کے لیے متبادل روزگار کا انتظام کرے۔ اس مطالبے کو دہراتے ہوئے سلطان احمد کا کہنا ہے ’حکومت کو اس پیشے سے جڑے لوگوں کے لیے پہلے کوئی متبادل انتظام کرنا چاہیے پھر ہتھ رکشہ ہٹانے کے بارے میں سوچنا چاہیے‘۔

ادھر کولکتہ کے میئر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ رکشہ والوں کو کچھ متبادل روزگار ضرور فراہم کیا جائےگا جبکہ وزیرِ ٹرانسپورٹ سبھاش چکروتی کا کہنا ہے کہ حکومت رکشہ والوں کو بینک سے قرض دلانے میں مدد کرے گی تاکہ وہ آٹو رکشہ خرید سکیں۔

’بارش کے پانی میں ہم صرف ہتھ رکشہ پر ہی انحصار کر سکتے ہيں‘

تاہم کولکتہ کے لوگ اس بارے میں دوسری رائے رکھتے ہیں۔ اندرانی مترو کہتی ہیں کہ ’اگر اتنی تعداد ميں آٹو رکشہ آ گئے تو آلودگی کی انتہا ہو جائے گی۔ یہاں پہلے ہی پھیپھڑوں کی بیماریاں بہت زيادہ ہيں، آٹو رکشہ تو اور زيادہ دھواں پھیلائیں گے‘۔

ماحولیت کے ماہرین جان وائیٹ لیگ اور نک ولیمز کا بھی یہی خیال ہے کہ آٹو رکشہ کولکتہ کی ماحولیاتی آلودگی میں بہت زيادہ اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ایک عام شہری رتنا ڈے کہتی ہيں’برسات میں دو دو فٹ سے بھی زیادہ بارش کے پانی میں ہم صرف ہتھ رکشہ پر ہی انحصار کر سکتے ہيں اور کم فاصلہ طے کرنے کرنے لیے بھی صرف یہی رکشہ موزوں ہے‘۔

کولکتہ میں زیادہ تر رکشہ والے اترپردیش اور بہار سے آئے ہوئے ہيں اور انہیں ہتھ رکشہ ہٹا کر آٹو رکشہ لانے کی تجویز پسند نہيں آ رہی۔ بہار کے ضلع ویشالی کے پینسٹھ سالہ بیتھو رام کہتے ہیں’ہمارا ووٹ بہار میں ہے۔ اگر ہمارا ووٹ بنگال میں ہوتا تو کبھی بھی رکشہ ہٹانے کی بات نہيں اٹھتی‘۔

بہار کے ہی شوکت علی جو پچھلے چالیس سال سے کولکتہ میں رکشہ چلاتے ہيں کہتے ہیں ’ہم چالیس سال سے عزت کے ساتھ محنت مزدوری کر کے اپنے گھروالوں کا پیٹ پال رہے ہیں۔ اس میں بےعزتی کی کون سی بات ہے، اب اس عمر میں ہم آٹو چلانا کس طرح سیکھ سکیں گے۔ حکومت تو ہم کو بھکاری بنانا چاہتی ہے‘۔

اسی بارے میں
انڈیا: سڑکوں پر سونے والے
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد