BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 April, 2007, 08:03 GMT 13:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی میں بس ہڑتال، مسافر پریشان

ممبئی میں پڑتال کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
بھارت کے صنعتی شہر ممبئي میں بامبے الیکٹرک سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ ( بیسٹ ) کی ’ کام گار یونین‘ نے تین روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ تقریباً ساڑھے تین ہزار بسیں رات بارہ بجے کے بعد سے سڑکوں پر نہیں چل رہی ہیں جس سے عام لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا ہے۔

بیسٹ انتظامیہ اور بیسٹ کام گار یونین کے درمیان مہنگائی بھتہ، تنخواہ کے سکیل پر نظر ثانی، اور ایل ٹی اے جیسے مطالبات پر ہوئی گفتگو ناکام ہو گئی ہے جس کے سبب یونین نے ہڑتال کا نوٹس دیا ہے۔

انتظامیہ نے ممبئی ہائی کورٹ میں اس ہڑتال کو چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے یونین کو ہڑتال پر نہ جانے کی ہدایت بھی کی تھی۔

بیسٹ کے جنرل مینجر اتم کھوبڑ گڑے نے اس ہڑتال کو غیر قانونی بتایا ہے۔ ان کے مطابق اگر ملازمین کام پر واپس نہیں آئے تو انہیں ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے اور ان کی جگہ نئے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹروں کی بھرتی کی جائے گی۔

مسٹر کھوبڑ گڑے کا کہنا ہے کہ بیسٹ 178.95 کروڑ روپے کے خسارہ میں چل رہی ہے۔ ان کے مطابق یونین نے گزشتہ برس انتظامیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے وہ ہڑتال نہیں کر سکتے اور بقول ان کے یونین نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

یونین لیڈر شرد راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ بیسٹ کے خسارہ میں چلنے کے انتظامیہ کا دعوی بالکل غلط ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیسٹ کو سالانہ 276.50 کروڑ روپے کا منافع ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے ملازمین کا ایل ٹی اے کاٹ دیا ہے اور معاہدوں پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے اس لیے یونین نے مجبور ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے۔

راؤ کا کہنا تھا کہ یہ ہڑتال نہیں ہے بلکہ اسے عدم تعاون کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر انتظامیہ نے ان کے مطالبات پورے نہیں کیے تو اس میں رکشہ اور ٹیکسی یونین اور شہری ملازمین بھی شامل ہو جائیں گے۔

بسیں ممبئی میں نقل و حمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں اور روزانہ اس سے تقریباً چوالیس لاکھ مسافر سفر کرتے ہیں۔ جمعرات کی صبح دفاتر جانے والوں کو بسیں نہ ہونے کی وجہ سے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔لوگوں کو مجبورا اپنی جیب ہلکی کرنی پڑی کیونکہ شہر میں ٹیکسی کا سفر مہنگا ہے۔

اسی بارے میں
ممبئ بم دھماکے: مجرم 100
04 December, 2006 | انڈیا
’سزا کا وقت آ گیا؟‘
14 March, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد