BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کولکاتہ میں ہاتھ رکشہ کو الوداع

ہاتھ رکشہ
ہاتھ رکشہ چلانے والے روزانہ بمشکل سو روپے ہی کما پاتے ہیں
مشہور ناول نگار ڈومنک لیپیرے نے اپنے ناول ’سٹی آف جوائے‘ میں کولکاتہ کے ہاتھ رکشوں کو یادگار بنا دیا تھا لیکن اب یہ رکشے جلد ہی تاریخ کی کتابوں میں سمٹ جائیں گے۔

ہندوستا ن کی ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی نےایک بل منظور کرکے شہر میں آمد رفت کے صدیوں پرانے اس ذریعہ کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔

مغبری بنگال اسمبلی نے پیر کو کولکاتہ ہیکنی کارنیج (ترمیم) بل 2006 کو منظور کر لیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت کانگریس اور ترنمول کانگریس نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔

مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹا چاریہ کا کہنا تھا کہ’مغربییت کے حامی اس شہر کو بھیک ما نگنےوالوں اور ہاتھ رکشا سے جوڑ کر دیکھتے ہیں لیکن یہ کولکاتہ کی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ شہر شان و شوکت اور ترقی کے لے جاناجاتاہے‘۔

 ’مغربییت کے حامی اس شہر کو بھیک ما نگنےوالوں اور ہاتھ رکشا سے جوڑ کر دیکھتے ہیں لیکن یہ کولکاتہ کی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ شہر شان و شوکت اور ترقی کے لے جاناجاتاہے
وزیراعلیٰ مغربی بنگال

کولکاتا شہر کے میئر وکاس رنجن کا کہنا ہے ’ آمد رفت کے اس ذریعہ کو بہت پہلے بند ہو جانا چاہیۓ تھا‘۔وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شخص پسینے میں ڈوب کر دوسرے شخص کو کھینچ رہا ہو‘۔

چینی تاجروں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہاتھ رکشہ کو کولکاتہ میں شروع کیا تھا تب سے ننگے پیراورکمزورآدمی اس ہا تھ رکشا کو کھینچ رہے ہیں ۔

آج بھی یہ رکشےکولکاتہ میں ہرجگہ نظرآتے ہیں اور خصوصی طور پر اسکی ضرورت مانسون کے دنوں میں بڑھ جاتاہے جب سٹرکوں پر پانی بھرنے کے سبب ٹیکسی اور کار کا استعمال مسافروں کے لیۓ مشکل ہوتا ہے۔

پسینے سے تر ان رکشوں کو کھیجنے والوں کو اکثر’ انسانی گھوڑا‘ بھی کہا جاتاہے۔

یہ رکشہ چلانے والےایک دن میں تقریبا 100 روپئے کماتے ہیں اور شہر کےفٹ پاتھوں پر رہتے ہیں اور وہیں کھاتے پیتے اور سوتےہیں۔

رکشہ چلانے والوں میں بہت سے لوگوں کا تعلق مغربی بنگال کی پڑوسی ریاستوں سے ہے اور ان غر یب لوگوں کے پاس اپنا رکشہ نہ ہونے کی وجہ سے کمائی کی بڑی رقم رکشے کے کرائے میں چلی جاتی ہے۔

چین نے کمیونسٹ انقلاب کے بعد 1949 چین میں ہاتھ رکشہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

چین میں 1949 میں ہی ہاتھ رکشہ پر پابندی لگا دی گئی تھی

دنیا میں کولکاتہ ان چند شہروں میں ہے جہاں آج تک روزمرہ کے ٹرانسپورٹ میں اسکا استعمال ہوتارہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس ہاتھ رکشا کے متبادل کی تلاش کی جارہی ہے۔اس رکشے کے بدلے تین پہیئے والی موٹر گاڑی اور سائکل رکشہ کو سڑکوں پر لایا جا سکتا ہے

کا نگریس کے قانونی مشیر اور کولکاتہ ہاتھ رکشہ پولریونین کے صدر سومین مترا نے حا لیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ رکشہ کھینچنے والوں کی بازآبادکاری کےلیے منصوبے واضع کیا جائے۔

وزیراعلی نے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت رکش والوں کی بازابادکاری کی کوشش کرے گی۔

شہر کےرکشہ یونین آل بنگال رکشہ پولر یونیئن کے محمد اسلم کا کہنا تھا کہ وہ پابندی کےخلاف نہیں ہیں بشرطہ کہ رکشہ کھیچنے والے کی روزی روٹی نہ ختم ہو۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ’ ہمیں امید ہے کہ حکومت کوئی مناسب انتظام کرےگی تاکہ ہ ہزاروں لوگ کو بے مددگار نہ رہ جائیں‘۔

1985 میں ایک ناول ’سٹی آف جوائے‘ ميں ایک فرا نسیسی پادری کو مغربی بنگال کی جھّگی جھوپڑی میں مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس پر بعد میں ہالیوڈ میں فلم بھی بنی تھی۔
اس ناول پر ایک اہم کردار فلم میں ہاتھ رکشہ پولر کو ایک کلیدی کردار کے طور پر پیش کیا گیا تھا جوسخت محنت کے سبب بیمار پڑ جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد