کولکاتہ میں ہاتھ رکشہ کو الوداع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور ناول نگار ڈومنک لیپیرے نے اپنے ناول ’سٹی آف جوائے‘ میں کولکاتہ کے ہاتھ رکشوں کو یادگار بنا دیا تھا لیکن اب یہ رکشے جلد ہی تاریخ کی کتابوں میں سمٹ جائیں گے۔ ہندوستا ن کی ریاست مغربی بنگال کی اسمبلی نےایک بل منظور کرکے شہر میں آمد رفت کے صدیوں پرانے اس ذریعہ کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔ مغبری بنگال اسمبلی نے پیر کو کولکاتہ ہیکنی کارنیج (ترمیم) بل 2006 کو منظور کر لیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعت کانگریس اور ترنمول کانگریس نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔ مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ بدھ دیو بھٹا چاریہ کا کہنا تھا کہ’مغربییت کے حامی اس شہر کو بھیک ما نگنےوالوں اور ہاتھ رکشا سے جوڑ کر دیکھتے ہیں لیکن یہ کولکاتہ کی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ شہر شان و شوکت اور ترقی کے لے جاناجاتاہے‘۔ کولکاتا شہر کے میئر وکاس رنجن کا کہنا ہے ’ آمد رفت کے اس ذریعہ کو بہت پہلے بند ہو جانا چاہیۓ تھا‘۔وہ کہتے ہیں کہ وہ یہ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ ایک شخص پسینے میں ڈوب کر دوسرے شخص کو کھینچ رہا ہو‘۔ چینی تاجروں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہاتھ رکشہ کو کولکاتہ میں شروع کیا تھا تب سے ننگے پیراورکمزورآدمی اس ہا تھ رکشا کو کھینچ رہے ہیں ۔ آج بھی یہ رکشےکولکاتہ میں ہرجگہ نظرآتے ہیں اور خصوصی طور پر اسکی ضرورت مانسون کے دنوں میں بڑھ جاتاہے جب سٹرکوں پر پانی بھرنے کے سبب ٹیکسی اور کار کا استعمال مسافروں کے لیۓ مشکل ہوتا ہے۔ پسینے سے تر ان رکشوں کو کھیجنے والوں کو اکثر’ انسانی گھوڑا‘ بھی کہا جاتاہے۔ یہ رکشہ چلانے والےایک دن میں تقریبا 100 روپئے کماتے ہیں اور شہر کےفٹ پاتھوں پر رہتے ہیں اور وہیں کھاتے پیتے اور سوتےہیں۔ رکشہ چلانے والوں میں بہت سے لوگوں کا تعلق مغربی بنگال کی پڑوسی ریاستوں سے ہے اور ان غر یب لوگوں کے پاس اپنا رکشہ نہ ہونے کی وجہ سے کمائی کی بڑی رقم رکشے کے کرائے میں چلی جاتی ہے۔ چین نے کمیونسٹ انقلاب کے بعد 1949 چین میں ہاتھ رکشہ پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
دنیا میں کولکاتہ ان چند شہروں میں ہے جہاں آج تک روزمرہ کے ٹرانسپورٹ میں اسکا استعمال ہوتارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس ہاتھ رکشا کے متبادل کی تلاش کی جارہی ہے۔اس رکشے کے بدلے تین پہیئے والی موٹر گاڑی اور سائکل رکشہ کو سڑکوں پر لایا جا سکتا ہے کا نگریس کے قانونی مشیر اور کولکاتہ ہاتھ رکشہ پولریونین کے صدر سومین مترا نے حا لیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ رکشہ کھینچنے والوں کی بازآبادکاری کےلیے منصوبے واضع کیا جائے۔ وزیراعلی نے ان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت رکش والوں کی بازابادکاری کی کوشش کرے گی۔ شہر کےرکشہ یونین آل بنگال رکشہ پولر یونیئن کے محمد اسلم کا کہنا تھا کہ وہ پابندی کےخلاف نہیں ہیں بشرطہ کہ رکشہ کھیچنے والے کی روزی روٹی نہ ختم ہو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ’ ہمیں امید ہے کہ حکومت کوئی مناسب انتظام کرےگی تاکہ ہ ہزاروں لوگ کو بے مددگار نہ رہ جائیں‘۔ 1985 میں ایک ناول ’سٹی آف جوائے‘ ميں ایک فرا نسیسی پادری کو مغربی بنگال کی جھّگی جھوپڑی میں مدد کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا جس پر بعد میں ہالیوڈ میں فلم بھی بنی تھی۔ | اسی بارے میں کلکتہ: جنرل کلائیو کے کچھوے کی موت23 March, 2006 | انڈیا کلکتہ: ہتھ رکشے نہیں چلیں گے15 August, 2005 | انڈیا کولکتہ کا بلیک ہول، حقیقت یا افسانہ 21 June, 2006 | انڈیا ’یہ بنگالی کے بس کی بات نہیں‘24 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||