کلکتہ: جنرل کلائیو کے کچھوے کی موت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں انگریز راج میں جنرل کلائیو کا وہ کچھوا جو اٹھارویں صدی میں لایا گیا تھا، کلکتے کے چڑیا گھر میں مردہ پایا گیا ہے۔ ادویت نامی یہ کچھوا جس کے نام کا مطلب ’اکیلا یا واحد‘ تھا، علی پور کے چڑیا گھر میں بدھ کے روز مردہ حالت میں ملا۔ اس کے خول میں چند ماہ پہلے دراڑ پڑ گئی تھی اور وہاں ایک زخم ہوگیا تھا۔ مغربی بنگال کے حکام نے بتایا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق ادویت کی عمر کم از کم ایک سو پچاس برس تھی۔ تاہم دیگر شہادتیں ظاہر کرتی ہیں کہ اس کچھوے کی عمر دو سو پچاس سال تھی۔ ماہرین اب اس کچھوے کے خول کا معائنہ کر کے کاربن تحلیل ہونے کی مقدار سے اس کی عمر کا تخمینہ لگائیں گے۔ مغربی بنگال کی حکومت میں وزیرِ جنگلات جوگیش برمن کا کہنا ہے : ’تاریخی ریکارڈ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کچھوا برطانوی کی ایسٹ انڈیا کمپنی کے جنرل رابرٹ کلائیو کا پالتو کچھوا تھا۔ جنرل کلائیو نے اس کچھوے کو اپنے وسیع و عریض رہائش گاہ میں رکھا ہوا تھا۔ لگ بھگ ایک سو تیس سال قبل اس کچھوے کو چڑیا گھر میں منتقل کیا گیا تھا۔ مسٹر برمن نے بتایا کہ ادیت کو بحرِ ہند سے لایا گیا تھا اور اسے جنرل کلائیو کے سامنے تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ادیت کا تعلق کچھوے کی اس نسل سے تھا جس کا وزن ایک سو بیس کلوگرام ہوتا ہے اور جانوروں میں ایسے کچھوؤں کی عمر سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کلکتے کے چڑیا گھر میں بڑی تعداد میں لوگ ادیت کو دیکھنے آتے تھے۔ آٹھ سال قبل جب یہ کچھوا بیمار ہوا تھا تو ایک بورڈ نے اس کا معائنہ کیا تھا۔ جنرل کلائیو نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے سبب کافی شہرت پائی تھی اور انہوں نے سترہ سو ستاون میں بنگال کے نواب کو پلاسی کی جنگ میں شکست دی تھی۔ بعد میں وہ افیون کے عادی ہوگئے اور انہوں نے سترہ سو چوہتر میں اننچاس برس کی عمر میں خودکشی کر لی تھی۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||