کولکتہ کا بلیک ہول، حقیقت یا افسانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کو کولکتہ میں ہوئے ’بلیک ہول‘ نامی واقعہ کے ڈھائی سو برس پورے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ دن اس لیئے اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ بیس جون 1756 کے روز ’فورٹ ویلئم‘ پر فتح حاصل کرنے کے بعد بنگال کے نواب کی فوج نے ایک چھوٹی سی جیل میں برطانوی قیدیوں کو قید کر دیا تھا۔ انگریز طلباء کو برسوں سے اس واقعہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی جیل میں ایک سو بیس قیدیوں کو رکھا گیا جس میں بچے، عورتیں اور مرد شامل تھے۔ لیکن صدياں گزرنے کے باوجود بھی یہ واقعہ اب تک تنازع کا شکار ہے ۔ تنازع اس بات پر ہے کہ کیا اصل میں اس طرح کا کوئی واقع پیش بھی آیا تھا یا پھر ہندوستانیوں نے خود ہی اسے یادگار سمجھ لیا ہے۔ اس واقعہ کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب مغربی بنگال کے نواب سراج الدوالہ نے اپنی حکمرانی میں برطانیہ کی مداخلت اور اس کی حکمرانی پر برطانوی شہنشاہیت کی جانب سے خطرات کے پیش نظر فورٹ ولیئم پر حملہ کر دیا۔ اس قلعہ کو کولکتہ میں ایسٹ انڈیا کمنپی کی حفاظت کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا۔ اس قلعہ کو نواب نے اپنے قبضہ میں لے لیا اور اس میں پناہ لینے والے ایک سو چھیالیس افراد کو قید کر لیا گیا جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھے۔ ان لوگوں کو ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا جو صرف چار بائی ساڑھے پانچ میٹر چھوڑا تھا۔ اس چھوٹی سی جیل میں بیشتر قیدی شدید گرمی اور دم گھٹنے کے سبب بے ہوش ہو گئے تھے۔ قلعہ کے کمانڈنگ افسرجون ہول ول کے مطابق اس میں سے صرف تیئس افراد ہی زندہ بچ سکے تھے۔ لیکن مسٹر لول ول کے اس بیان کو بعض ہندوستانی اور انگریزی تاریخ دانوں نے چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بے بنیاد ہے اور صرف ایک جھوٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ برطانوی شہنشاہیت یہ بتانا چاہتی تھی کہ اٹھارویں صدی کے ہندوستانی حکمراں بہت ظالم اور جابر ہیں تاکہ وہ اپنی بادشاہت کو صحیح ٹھرا سکیں۔ اور اسی لیئے ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانیوں کو ایسے ظلم سے نجات دلانے کے لیئے برطانوی شہنشاہیت آ رہی ہے۔‘ ایسے میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہیں کہ ہندوستان میں اس واقعہ کے 250 برس پورے ہونے پر کوئی جلسہ منعقد نہیں کیا گیا ہے اور شاید اسی لیئے اس واقعہ کے بارے میں ہندوستان کی تاریخ کی کتابوں میں بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں نوابین اودھ کے دلپسند، چاندی کے زیر پاء21 February, 2006 | انڈیا ’یہ بنگالی کے بس کی بات نہیں‘24 January, 2005 | انڈیا ممبئی کا چور بازار05 March, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||