ممبئی کا چور بازار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کا صنعتی دارالحکومت ممبئی اگر بالی ووڈ ستاروں ، کروڑوں کے بزنس اور خوبصورت ساحل کے لیے مشہور ہے تو وہیں ’ چور بازار‘ کی وجہ سے بھی دنیا میں اسکی اپنی شناخت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سیاح جب ممبئی آتا ہے تو طیارے میں ممبئی کا جو نقشہ اسے فراہم کیا جاتا ہے اس میں چور بازار پر بھی نشان لگا ہوتا ہے۔ یہ سیاح تاج محل یا ممبئی کے دیگر فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں لیکن جنوبی ممبئی کے معروف علاقے چور بازار اپنے گائیڈ کے ساتھ آنا نہیں بھولتے۔ مٹن اسٹریٹ کے اطراف پانچ گلیوں میں بسا یہ علاقہ دنیا بھر میں نادر و نایاب سامان کے لیے مشہور ہے۔ یہاں پرانے وقتوں کی سوئی سے لیکر رولس رائس گاڑی تک مل جاتی ہے ۔ صدیوں کی تاریخ کو دوہرانا یا پرانی یادوں کو تازہ کرنا ہے تو چور بازار سے اچھی جگہ کوئی نہیں۔ پرانے دور کی فلمیں بنانے والے پروڈیوسر یہاں آکر سامان کرائے پر لے جاتے ہیں۔ پھر وہ برطانوی دور کی گھڑیاں ہوں ، راجپوت گھرانے کے زیورات فرنیچر یا پھر ایران سے لائے گئے جھومر اور قالین یہاں سبھی کچھ ملتا ہے۔
اس بازار کا نام چور بازار کس طرح پڑا اس سے کئی روایتیں منسوب ہیں۔ نادر قیمتی اشیاء کی دکان جبلی ڈیکوریٹرز کے مالک حسن ظفر شیخ کے مطابق آزادی سے قبل جب ملکۂ برطانیہ پہلی مرتبہ یہاں آئیں تو ان کے ساتھ ان کا وائلن بھی تھا ۔ جہاز جب گیٹ وے آف انڈیا پر رکا تو ملکہ کو محل لے جایا گیا۔ آرام کے بعد انہوں نے جب وائلن بجانے کے لئے طلب کیا تو پتہ چلا کہ وہ چوری ہوگیا ہے۔ فوری طور پر تلاش شروع ہوئی ۔ اسے کسی ملازم نے فروخت کر دیا تھا۔ وائلن جس بازار سے ملا ملکہ نے کہا کہ اس کا نام ’ تھیف مارکٹ‘ یعنی چور بازار رکھ دیا جائے۔ علاقے کے دوسرے دکاندار محمد سلیم ، عبدالقادر منصوری وغیرہ اس روایت کو صحیح نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ یہاں پہلے ’ سکینڈ ہینڈ ‘ یعنی استعمال شدہ سامان فروخت ہوتا تھا۔
دکاندار آواز لگا کر چیزیں فروخت کرتے تھے جس کی وجہ سے شور بہت ہوتا تھا اور پھر یہی نام بگڑ کر شور سے چور ہوگیا۔ چور بازار کی پہلی گلی میں نادر و نایاب قیمتی سامان فروخت ہوتا ہے۔ یہاں کم از کم چار نسلوں سے یہ دکانیں چلی آرہی ہیں۔ ان دکانوں میں آپ کو وہ سب مل جائے گا جو بھارت کے کسی کونے میں آپ کو نہیں مل سکتا ہے۔ 200 برس پرانی گھڑیاں اور گراموفون کے علاوہ ماچس کی دو ڈبیاں بھی موجود ہے جس پر شوبھنا سمرتھ اور لیلا چٹنس کی تصاویر بنی ہیں۔ مشہور غیر ملکی فنکاروں کی پینٹنگز بھی ہیں اور پرانی ممبئی کے نقشے اور پرانے ستاروں کی تصاویر بھی لیکن یہاں کسی بھی چیز کا دام مقرر نہیں ۔ دکاندار گاہک کو بھانپ کر بولی لگاتے ہیں اور کبھی ردی کا سامان بھی وہ لاکھوں میں فروخت کر لیتا ہے۔ یہاں اشیاء کی تقریبا 100 دکانیں ہیں اور لوگ یہاں شمالی حیدرآباد ، گجرات ، کولکتہ کے علاوہ لندن سے بھی آتے ہيں۔ ایک گلی میں اوزار ، مشینیں فروخت ہوتی ہيں ۔ تیسری گلی میں پرانے گرم کپڑے ، اور جوتے ملتے ہیں۔ ممبئی کی گلیوں میں گجراتی عورتیں برتن لیکر گھومتی ہيں جو پرانے کپڑ ے لے کراس کے بدلے میں برتن دیتی ہیں۔ وہ کپڑے یہاں فروخت ہوتے ہيں ۔ اسکے علاوہ بندرگاہ سے بھی پرانے کپڑوں کی گانٹھیں آتی ہیں جو تھوک کے داموں پر فروخت ہوتی ہیں ۔ دکاندار اسے اٹھا لیتے ہیں اور پھر یہاں فروخت کرتے ہيں۔
اس بازار میں ایک غریب شخص 100 روپے میں گرم کوٹ ، پینٹ اور جوتے خرید سکتا ہے۔ اس بازار کی ایک اور اہم گلی ہے جہاں موٹرگاڑیاں اور اسکے پارٹس ملتے ہيں ۔ یہاں کے دکاندار اس سے انکار کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پہلے جب بھی کوئی گاڑی چوری ہوتی تھی وہ یہیں آکر بیچی جاتی تھی اور منٹوں میں یہاں کے لوگ اسکا انجن نکال کر گاڑی توڑ دیتے تھے اور پھر انجن کی نشانی بھی مٹا دی جاتی تھی ۔ اب یہاں پولیس ٹیم رجسٹر لے کر بیٹھتی ہے اور توڑنے والی’ سکینڈ ہینڈ‘ گاڑی کے کاغذات دیکھتی ہے ۔ فلموں میں گاڑیوں کو بم سے اڑاتے ہوئے آپ دیکھتے ہیں وہ گاڑیاں یا تو یہاں سے جاتی ہیں یا پھر بم سے اڑائی گاڑیوں کے جلے ہوئے ڈھانچے یہاں فروخت ہوتے ہیں۔ کہنے کو یہ چور بازار ہے لیکن یہاں ہزاروں دکانیں ہيں اور دکاندار انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ادا کرتے ہيں ۔ لاکھوں کروڑوں روپے کا روزانہ کاروبار ہوتا ہے اور ان گلیوں کی خاک چھاننے امیر اور غریب دونوں ہی آتے ہيں ۔ یہی ممبئی اور چور بازار کی شان ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||