BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 February, 2005, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ساڑھیاں اور پاکستانی شلوار سوٹ

ساڑھیاں
ڈراموں میں پہنی جانے والی رنگ برنگی ساڑھیاں عوام میں نہایت مقبول ہیں
سرحدوں نے بھلے ہی ملکوں کو تقسیم کر دیا ہو لیکن ٹی وی چینلوں نے نہ صرف دلوں کو جوڑ نے کا کام کیا ہے بلکہ لوگ اس کے ذریعہ نہ صرف ایک دوسرے کی تہذیب و ثقافت بلکہ اس کے ساتھ ان کے لباس اور انداز کو بھی بخوشی اپنا رہے ہیں۔

ہندوستان میں بننے والے ڈراموں کے سلسلے ’ کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘، ’کسوٹی زندگی کی‘ اور ’کہانی گھر گھر کی ٹی وی کے مقبول سیریلز ہیں۔ یہ تمام ڈرامے اور اسکی کہانیاں خاندان اور ان کے افراد کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ ان سیریلز میں تلسی، پاروتی، اور پریرنا کے علاوہ کمولیکہ کے کردار نبھانے والی اداکارائيں جو ساڑھیاں پہنتی ہیں، ویسی ہی ساڑھیاں فورا بازار میں آجاتی ہیں اور ہاتھوں ہاتھوں بک بھی جاتی ہیں۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ ساڑھیاں جتنی ہندوستان میں مقبول ہیں اس سے کہیں زیادہ پاکستان میں پسند کی جارہی ہیں۔ بشیر بھائی ایک تاجر ہیں جو ہندوستان سے ساڑھیاں لے کر پاکستان جاتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ کراچی میں خواتین میں یہ سارے ہندوستانی سیریلز بہت مقبول ہیں اور خواتین ان کے کردار کے لباس کو اپنا نا چاہتی ہیں اس لئے وہ ساڑھیاں لے کر وہاں جاتے ہیں۔

ہندوستان میں یہ ساڑیاں ڈھائی سو سے ساڑھے 400 روپے میں مل جاتی ہیں لیکن پاکستان جا کر یہ دام تین گنا بڑھ جاتے ہیں۔

یہ تو بات ایک طرف کی ہوئی۔ خود ہندوستان میں پاکستان کے شلوار سوٹ اور دوپٹے بہت مقبول ہیں۔ یہاں پاکستان سے آياہوا سوٹ ساڑھے تین ہزار سے 5 ہزار کے درمیان فروخت ہوتا ہے اور لڑکیاں اور خواتین اسے نہایت شوق سے خریدتی ہیں۔

بھارتی ساڑھیاں
بھارتی خواتین میں پاکستانی دوپٹے بہت مقبول ہیں

شکھا اگروال سے جب ہم نے سوال کیا کہ وہ ہندوستانی کپڑے چھوڑ کر پاکستانی لباس کیوں خرید رہی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ یہ لباس منفرد ہیں اور اس پر ہاتھ سے جو کشیدہ کاری کی گئی ہے وہ یہاں نایاب ہے۔

روشنی زیدی ایم بی اے کی طالبہ ہیں اور انہیں پاکستانی ڈوپٹے بہت پسند ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ بہت ملائم ہیں اور ان پر انتہائی باریک کڑھائی ہوئی ہے۔ رنگوں کا حسین امتزاج اسے منفرد بنا دیتا ہے اور اور منفرد لگنا بہت پسند کرتی ہیں۔ شاید یہی سب باتیں ہمیں اور ہمارے دلوں کو جوڑے ہوئے ہیں۔

پاکستانی لباس یہاں کافی مہنگے ہیں اس لئے ایک عام اور متوسط طبقے کی لڑکی کے لئے انہیں خریدنا مشکل ہے۔ اسی لئے اسکی نقل بھی بازار میں آچکی ہے ۔ یہ لباس ڈیڑھ ہزار روپے میں مل جاتا ہے۔ جبوبی ممبئی کا ایک بازار ’ناخدا محلہ‘ ہے جہاں خواتین کو ہر طرح کے کپڑے مل جاتے ہیں ۔ مسلم اکثریتی علاقے میں یہاں بڑی تعداد میں غیر مسلم خواتین لباس خریدنے آتی ہیں اور پاکستانی لباس ہاتھوں ہاتھ بک جاتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد