’ترقی سرحد پر بھی نظرآنی چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کی اقتصادی ترقی اور تبدیلیاں سرحد پر بھی نظر آنی چاہیئیں اور اس کے لیے سرحدی نظم ونسق میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ بہتر تجارتی رشتوں سے سرحدیں اپنے آپ بدل سکتی ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے سرحدی امور سے متعلق ایک اعلٰی سطحی ’ بارڈر ایریا ڈیولیپمنٹ پروگرام‘ ( بی اے ڈی پی) کے نام سے کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے سرحدی نظم نسق کے لیے کئی سفارشات پیش کی ہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ بھارت اقتصادی طور پر دنیا کا ابھرتا ہوا ملک ہے اور باقی ملک کی طرح اقتصادی ترقی اورتبدیلی ملک کی سرحدوںہ پر بھی ظاہر ہونی چاہیں۔ کمیٹی کے صدر بی این یونگدھر کا کہنا ہے کہ آزادنہ اقتصادی پالیسی سےسرحدی سوچ سمجھ بھی بدل گئی ہے ۔سرحدوں تک ملک کے عوام کی رسائی ہونی چاہیے، سرحدوں کے نظم ونسق کے لیے نئی پالیسیاں اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بی اے ڈی پی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے’ کارگل جنگ کے بعد اعتماد سازی کے اقدامات اور سرحد کی دوسری جانب دن بدن تبدیلیوں سے سرحدوں کے نظم و نسق کے بارے میں حکمت عملی اور پالیسی طے کرنے میں از سرنو غور وفکر کی ضرورت ہے‘۔ ماہر اقتصادیات بھارت جھنجھنو والا کا کہنا ہے کہ سرحد اور ملک کے دوسرے حصوں میں تفریق کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ بی بی سی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں بعض تبدیلی کی ضرورت تو ہے’لیکن سرحدوں پر یہ تبدیلیاں پڑوسی ممالک سے تجارتی تعلقات بہتر کرنے اور تعاون کرنے سے آئیں گي‘۔ مسٹر جھنجھنو والا کا کہنا تھا کہ بھارت کی تجارت امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک سے زیادہ رہی ہے جبکہ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور پاکستان سے یہ برائے نام ہے۔’ بھارت بڑا ملک ہے اور میرے خیال سے اسے پڑوسی ممالک کو بعض تجارتی رعاتیں بھی دینی چاہیں اس سے سرحدیں خود بخود آسان ہوجائیں گی‘۔ ماہرین کے مطابق سرحد پر ملک کی ترقی کا اظہار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جدید ٹیکنا لوجی کا استعمال کیا جائے اور کسٹمز کے پرانے سخت اصولوں میں نرمی لائی جائے۔ سرحد کی دونوں جانب لوگوں کی آمد و رفت میں بھی آسانیاں پیدا کی جائیں۔ بھارت جھنجھنو والا کے مطابق اگر تجارتی رشتے تعاون کی پالیسی پر مبنی ہوں تو باقی سب خود ہی درست ہوجائےگا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے رشتے ہوں تو چار دیواری کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی چاہے وہ کسی بھی رنگ کی ہو لیکن اگر پڑوسی سے رشا کشی ہو تو چار دیواری چاہے جنتی اچھی ہو اس کا کوئی مطلب نہیں ہے‘۔ |
اسی بارے میں سرحدیں بےمعنی ہونی چاہئیں: انڈیا 05 December, 2006 | انڈیا ’ناشتہ امرتسر، ظہرانہ لاہور میں‘ 08 January, 2007 | انڈیا ’تقسیم کی حقیقت سے آشنا‘ 11 August, 2007 | انڈیا ’سرحدوں کے بنا کشمیر ممکن ہے‘30 May, 2005 | انڈیا سرحد کی تقسیم سے ماورا28 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||