BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 January, 2007, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ناشتہ امرتسر، ظہرانہ لاہور میں‘
منموہن سنگھ اور مشرف
’پورے جنوبی ایشیا کے عوام کی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے‘
بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن، سلامتی اور دوستی کے ایک معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان رشتے بہتر ہو سکيں۔

وزیراعظم کا بیان ایک ایسے وقت ميں آيا ہے جب بھارتی وزيرِخارجہ پرنب مکھرجی اسی مہینے کی تیرہ تاریخ کو پاکستان کا دورہ کرنے والے ہيں۔

اپنےخطاب میں بھارتی وزیراعظم نے سرحدوں کو بے معنی بنانے پر ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا’ ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں کہ جب لوگ صبح کا ناشتہ امرتسرمیں، دوپہر کا کھانا لاہور میں اور رات کا کھانا کابل میں کھائيں‘۔ انہوں نے کہا’ہمارے بزرگوں نے ایسی ہی زندگی گزاری ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آنے والی نسلیں بھی ایسی ہی زندگی گزاریں‘۔

دلی میں فیڈریشن آف انڈین چیمبرز آف کامرس میں تجارتی وفد سے خطاب کرتے ہوئے منموہن سنگھ نے یہ خواہش ظاہر کی کہ ’دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اس قدر دوستانہ ہو جائيں اور دونوں ممالک اس قدر ایک دوسرے پر یقین کرنے لگیں کہ وہ امن ، سلامتی اور دوستی سے متعلق ایک معاہدہ کرنے پر اتفاق کر لیں‘۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمگیریت کے اس دور میں سیاسی سرحدیں سماجی اور اقتصادی رشتوں میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔ انہوں نے کہا’پورے جنوبی ایشیا کے عوام کی خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور اگر پڑوسی ممالک میں اقتصادی ترقی نہیں ہوتی تو اس کا اثر ہندوستان پر بھی پڑے گا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد