BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال: بھوک سے مرتے مزدور

News image
سات سو سے زائد ہلاک ہوچکے
 خوراک کی کمی سے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ایک برس سے بھی کم مدت میں اس علاقے میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں
پراہلاد شرما

شمالی بنگال کے رامجھورا چائے باغات گزشتہ ڈھیڑھ سو برس سے بیشتر افراد کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ رہے ہیں۔

لیکن ان افراد پر مصیبت کاپہاڑ اس وقت ٹوٹ پڑا جب پانچ برس قبل سٹیٹ کا مالک بغیر کسی وجہ کے کاروبار بند کر کے چلا گیا۔ اس نے ان بے سہارا مزدروں کی باقی تنخواہیں بھی ادا نہیں کیں اور انہیں متبادل روزگار بھی فراہم نہیں کیا۔

یہاں جو مزدور کام کرتے تھے ان کا کہنا ہے کہ وہ خوراک کی کمی کی وجہ سے رفتہ رفتہ موت کے آغوش میں جا رہے ہيں۔

خوراک کی کمی سے ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانا مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ایک برس سے بھی کم مدت میں اس علاقے میں سات سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

رامجھورا کے ایک مقامی لیڈر پراہلاد شرما کا کہنا ہے کہ مقامی لوگ کام کرنا چاہتے ہیں انہیں مدد کی شدید ضرورت ہے۔

ہسپتال
رامجھورا میں قائم ایک مقامی ہسپتال

انہوں نے مزید بتایا کہ ’خوراک کی کمی کے سبب لوگ بیمار ہونے لگے ہیں، گزشتہ پانچ برسوں میں صرف رامجھورا سٹیٹ میں خوراک کی کمی سے دو سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں‘۔

مسٹر شرما ان حالات کا ذمہ دار باغان کے مالک کو قرار دیتے ہیں جو اچانک باغبانی چھوڑ کر چلے گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت نے یہ زمین اپنے قبضے میں لے لی تو اس کا اب صحیح استمعال بھی ہونا چاہیئے تاکہ ہماری زندگی بہتر ہوسکے‘۔

لکشمی گوسین کے چار بچے ہیں اور وہ اکیلی اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ لکشمی کے خاوند کی موت تین سال پہلے ہوئی تھی۔ لکشمی نے اپنا چوتھے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ایک یتیم خانے کو دے دیا تھا۔ گزشتہ ماہ اس کا گھر ایک ہاتھی نے برباد کردیا تھا۔

لکشمی کبھی کبھی پتھر توڑنے کا کام کرتی ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر وقت وہ کمزوری کا شکار رہتی ہے۔ بقول لکشمی اس کے علاقے کے بیشتر لوگوں کا یہی حال ہے کیونکہ ان سب کے پاس پیٹ بھر کھانے کے لیے بھی نہیں ہے۔

عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ساتھ باغوں میں کام کرتی ہیں

’بیشترکے پاس کھانے کے لیے چاول نہیں۔ سب لوگوں کا یہی حال ہے۔ بھوکے پیٹ کام کرتے ہیں اس لیے پہلے بیمار ہوتے ہیں اور پھر مر جاتے ہیں۔ یہاں سبھی اموات خوراک کی کمی سے ہوتی ہے‘۔

لکشمی مزید بتاتی ہیں ’میرے خاوند کی موت بھی ایسے ہی ہوئی تھی۔ وہ بھوکے پیٹ کام کرتا تھا۔ چائے کا باغ بند ہونے کے بعد اس کے پاس کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا‘۔

کام کی تلاش میں کچھ جوان دلی اور کولکتہ چلے گئے ہیں اور کچھ سرحد پار بھوٹان، جہاں وہ کم تنخواہ پر مقامی تعمیراتی اداروں میں کام کرتے ہیں۔ لیکن بیشتر لوگ اس امید کے ساتھ رامجھورا میں رہتے ہیں کہ حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ ان کے باہر نہ جانے کی ایک وجہ یہ بھی کہ انہیں یہ ڈر ستاتا رہتا ہے کہ ان کے گھر میں اچانک کسی کی بھی موت ہوسکتی ہے۔

رامجھورا ایک ہرا بھرا اور زرخیز علاقہ ہے اور بھوک سے مرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ حالانکہ خوراک کی کمی سے پوری برادری کمزور پڑگئی ہے اور اس کے سبب انہیں ٹی بی اور خون کی کمی جیسی بیماریاں ہوگئی ہیں۔

فیکٹری
رامجھورا میں چائے فیکٹری جو اب بند ہو چکی ہے

کچھ برسوں کے دوران چائے کی قیمتوں میں کمی آنے کے سبب یہاں چائے کے بیشتر باغ بند ہوگئے ہیں۔

چا‎ئے کے باغوں کے مالک باغ اس لیے چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں کہ انہیں وہ منافع نہیں ہو رہا جس کی انہیں امید تھی۔

رامجھورا میں صرف چائے کے باغات کی وجہ سے سات ہزار سے زیادہ افراد کا روزگار قائم تھا جو اب ختم ہو چکا ہے۔
ریاستی حکومت نے متاثرہ افراد کے لیے خوردنی اشیاء اور ادویات فراہم کی ہیں۔ لیکن بیشتر افراد کا کہنا ہے کہ انہیں آدھے سے بھی کم پیٹ کھانا ملتا ہے اور بعض کے لیے یہ مقدار بالکل ناکافی ہے۔

پرہلاد شرما کا کہناہے ’آنے والے دن اور بھی خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ سردیوں میں چائے کے باغوں کام یوں بھی ختم ہو جاتا ہے اور علاقے میں اور کوئی کام ہوتا نہیں اس لیے کسی کے بھی پاس کھانے کا سامان یا کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوں گے‘۔

لیکن رامجھورا سے تھوڑی دور دارجلنگ اور مغربی بنگال میں حالات بہتر ہیں اور چائے کے باغ خوب پھل پھول رہے ہیں۔

چائے مزدور
جب باغ تھے تو کچھ امیدیں بھی تھیں لیکن اب امید بھی نہیں ہے

دارجلنگ میں ماکیباری باغان کے مالک راجہ بینرجی نے 1980 میں اورگینک چائے بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ اور اب وہ دنیا میں سب سے مہنگي چائے بیچنے والوں میں ہیں۔

مسٹر بینرجی کا کہنا ہے کہ رامجھورا کے باغان پھر سے پھل پھول سکتے ہیں اگر کوئی ان کی صحیح دیکھ بھال کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد