BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 April, 2006, 12:40 GMT 17:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نرمدا:کی جوابی بھوک ہڑتال
گجرات کے وزير اعلٰی
گجرات کے وزير اعلٰی نریندر مودی
نرمدا ندی پر بنائے جانے والے سردار سروور ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ افراد کی آبادکاری اور ڈیم کی اونچائی بڑھانے کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

گجرات کے کل جماعتی ارکان پارلیمان کے ایک وفد نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ ڈیم کے تعمیر کے کام میں رکاوٹ نہ آنے دی جائے۔

وزیراعظم سے ملاقات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارن جیٹلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’گجرات کے لیے نرمدا ڈیم ایک لائف لائن ہے اور کسی بھی صورت میں اسکی تعمیر کا کام رکنا نہیں چاہیے‘۔

ارن جیٹلی کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم ڈیم کی تعمیر کے کام میں رکاوٹ کے خلاف تو ضرور نظر آئے لیکن ساتھ ہی انہوں نے متاثرہ افراد کی آبادکاری کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی‘۔

بی بی سی نے جب وزیراعظم منموہن سنگھ کے مشیر سنجے بارو سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کسی طرح کا رد عمل ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔

دوسری جانب اتوار کی دوپہر دو بجے سےگجرات کے وزير اعلٰی نریندر مودی نے ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف احتجاج کے طور پر اکیاون گھنٹوں کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سردار سروور ڈیم کی تعمیر کے بارے میں گجرات ميں کانگریس اور بی جے پی اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز کانگریس نے گجرات میں احتجاج کے طور پر بند کا اعلان کیا تھا ۔لیکن دلی میں اراکین پارلیمان اور وزیر اعظم کی ملاقات کے بعد یہ بند واپس لے لیا گیا ہے۔

یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ہفتے کے روز نرمدا ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ افراد کی آبادکاری اور ڈیم کی اونچائی بڑھانے کے مسئلے پر مرکزی حکومت اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے درمیان بات چیت کی گئی۔

میدھا پاٹکر نے ڈیم کی مخالفت میں بھوک ہڑتال کی تھی

دلی میں نرمدا کنٹرول اتھارٹی کی نظرثانی کمیٹی میں مرکزی حکومت نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ چونکہ باز آبادکاری کا کام سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پورا نہیں ہوا ہے اس لیے ڈیم کی تعمیر عارضی طور پر روک دینی چاہئیے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار والی ریاستوں گجرات راجستھان اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلٰی نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ باز آباد کاری اور تعمیر کا کام ایک ساتھ جاری رہنا چاہئیے۔

بات چیت کے بعد آبی وسائل کے مرکزی وزیر سیف الدین سوز نے کہا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم ایک قرارداد بھیجی ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ جب تک باز آباد کاری کا کام سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پورا نہیں ہوتا ڈیم کی تعمیر کا کام روک دینا چاہئیے۔

بیس برس قبل سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور اس سے متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کا وعدہ بھی کیا گیا تھا ۔

موجودہ تنازعہ اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب نرمدا کنٹرول اتھارٹی نے ڈیم کی اونچائی 110 میٹر سے بڑھا کر 121 میٹر کرنے کی درخواست کو منظوری دے دی ۔ اس کے بعد سماجی کارکن اور نرمدا بچاؤ تحریک سے وابستہ میدھا پاٹکر نے اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف دلی میں بھوک ہڑتال شروع کردی۔ وہ گزشہ دو ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ اور ان کی حالت کافی نازک بتائی جا رہی ہے۔

بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس منصوبے پر تقریباً تیرہ سو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد