بھوک ہڑتالی رہنما کی حالت مستحکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نرمدا بچاؤ تحریک کی بھوک ہڑتالی رہنما میدھا پاٹکر کی طبیعت نازک لیکن خطرے سے باہر ہے۔ انہیں بدھ کی رات گئے پولیس نے جبراً ہسپتال میں داخل کروایا تھا۔ میدھا پاٹکرگزشتہ آٹھ روز سے بھوک ہڑتال پر تھیں اور ان کی حالت مزید خراب ہوتی جا رہی تھی۔ دلی کے ایمس ہسپتال میں داخل میدھا پاٹکر کی طبیعت کے بارے میں ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان کی طبیعت خطرے سے باہر ہے۔ میدھا پاٹکر اور نرمدا بچاؤ تحریک کے سینکڑوں کار کن سردار سروور ڈیم کو مزید اونچا کرنے کے خلاف دلی میں گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پاٹکر کے ساتھ دیگر ستّر احتجاجی کارکنان کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ان کارکنان نے پولیس پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ پولیس نے ان کی رہنما کوگرفتار کرنے میں کافی سخت رویہ اپنایا ہے۔ احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ’ڈیم کی تعمیر سے ہزاروں لوگ متاثر ہوئے تھے اور حکومت نےان کی آباد کاری کا وعدہ کیا تھا جسے آج تک پورا نہیں کیا گیا اور ڈیم کو پھر اونچا کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں علاقے کے کئی گاؤں متاثر ہونے کا خطرہ ہے‘۔ ہندوستان میں آبی وسائل کےمرکزی وزیر سیف الدین سوز نے اس سلسلے میں میدھا پاٹکر سے کئی بار ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا ہے کہ حکومت سروور ڈیم کے آس پاس کے علاقوں کا جائزہ لے کر سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کرےگی۔ انہوں نے میدھا پاٹکر سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی بھی اپیل کی تھی لیکن میدھا پاٹکر نے بھوک ہڑتال ختم کرنےسے انکار کر تے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کی رپورٹ عام کی جائے۔ سابق وزیراعظم وی پی سنگھ سمیت ملک کے کئی سیاسی رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات نے پاٹکر سے ملاقات کی ہے اور ان کی حمایت میں وہ بھی دھرنے میں شامل ہیں۔ بیس برس قبل سردار سروور ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور اس سے متاثرہ لوگوں کی آبادکاری کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن ابھی تک علاقے کے بہت سے لوگوں کو انتظامیہ کی مدد کا انتظار ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سروور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس پراجیکٹ پر تقریبا تیرہ سو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس بارے میں آئندہ سترہ اپریل کو سپریم کورٹ میں سنوائی بھی ہونے والی ہے۔ | اسی بارے میں ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب 04 April, 2006 | انڈیا ’ڈیم کے لیے شہر نہیں چھوڑیں گے‘30 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||