نرمدا ڈیم معاملہ وزیراعظم کے سپرد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نرمدا ڈیم کی تعمیر سے متاثرہ افراد کی باز آبادکاری اور ڈیم کی اونچائی بڑھانے کے مسئلے پر مرکزی حکومت اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی ہے اور اس معاملے کو اب وزیراعظم موہن سنگھ کے سپرد کیا گیا ہے۔ دلی میں نرمدا کنٹرول اتھارٹی کی ریویو کمیٹی میں مرکزی حکومت نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ چونکہ باز آبادکاری کا کام سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پورا نہیں ہوا ہے اس لیے ڈیم کی تعمیر عارضی طور پر روک دینی چاہیے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کے قیادت والے گجرات راجستھان اور مدھیہ پردیش کے وزرائے اعلٰی نے اس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ بازآباد کاری اور تعمیر کا کام ایک ساتھ جاری رہنا چاہیے۔ اجلاس کے بعد آبی وسائل کے مرکزی وزیر سیف الدین سوز نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعظم کو ان سفارشات کے ساتھ ایک قرارداد بھیجی ہے کہ ’جب تک بازآباد کاری کا کام سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق پورا نہیں ہوتا ڈیم کی تعمیر کا کام روک دینا چاہیے‘۔ سپریم کورٹ نے ڈیم کی اونچائی بڑھانے کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ پہلےمتاثرین کو بسانے کا کام پورا کرلیا جائے۔ سیف سوز کا کہنا تھا کہ وہ اور ماحولیات کے وزیر اے راجہ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلٰی ولاس راؤ دیش مکھ تعمیر کے روکنے کے حق میں تھے جبکہ گجرات، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے وزرائے اعلٰی نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ’چونکہ معاملہ تین تین سے برابری پر تھا اس لیے اسے وزیراعظم کے پاس بھیجا گیا ہے‘۔ گجرات کے وزیراعلٰی نریندر مودی نے کہا کہ ’مرکزی حکومت نربدا تحریک سے خوفزدہ ہے اور میدھا پاٹکر کے دباؤ میں آ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے‘۔ نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار سے اس فیصلے کے خلاف اکیاون گھنٹوں کی بھوک ہڑتال شروع کریں گے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلٰی شیو راج سنگھ چوہان کا کہنا تھا کہ ’باز آباد کاری اور ڈیم کی تعمیر کا کام، دونوں ایک ساتھ جاری رہیں‘۔ راجھستان کی وزیراعلٰی وسندھرا رجے سندھیا کا کہنا تھا کہ انہیں پانی کی سخت ضرورت ہے اس لیے ڈیم کو جلد سے جلد مکمل ہونا چاہیے۔
اسی دوران گجرات میں کانگریس پارٹی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ساتھ دیتے ہوئے مرکزی حکومت کے فیصلے کے خلاف کل یعنی اتوار کوگجرات بند کی اپیل کی ہے۔ گجرات میں بی بی سی کے نامہ نگار راجیو کھنّہ کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے کار کنان نے اداکار عامر خان کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ گزشتہ روز عامر خان اور ’رنگ دے بسنتی‘ کی ٹیم نے دلی کے جنتر منتر روڈ پر نرمدا بچاؤ تحریک کے کار کنان سے ملاقات کی تھی اور ان کے سا تھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔ نرمدا بچاؤ تحریک کی رہنما میدھا پاٹکر نے سینکڑوں کار کنوں کے ساتھ سردار سرور ڈیم کو مزید اونچا کرنے کے خلاف دلی میں احتجاج شروع کیاہے اور کئی روز سے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ڈیم کی اونچائی ایک سو دس میٹر سے بڑھاکر ایک سو اکیس میٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
میدھا کے احتجاجی دھرنے کو کئی حلقوں سے حمایت حاصل ہوئی ہے اور انہیں کوششوں کے نتیجے میں حکومت نے اس پورے معاملے پر نظر ثانی شروع کی ہے۔ حال ہی میں مرکزی حکوت کی ٹیم نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق متاثرین کی بازآباد کاری کا کام پورا نہیں ہوا ہے۔ اس معاملے پر سترہ اپریل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔ بیس برس قبل سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوا تھا اور اس سے متاثرہ لوگوں کی باز آبادکاری کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن ابھی تک علاقے کے بہت سے لوگوں کو انتظامیہ کی مدد کا انتظار ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے سردار سرور ڈیم کی تعمیر کا کام 1987 میں شروع ہوا تھا اور اب تک اس پروجیکٹ پر تقریبا تیرہ سو کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیم احتجاج: میدھا کی حالت خراب 04 April, 2006 | انڈیا ’ڈیم کے لیے شہر نہیں چھوڑیں گے‘30 June, 2004 | انڈیا چوّن ہندو یاتری دریا میں ڈوب گئے11 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||