’چیک دے انڈیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فاتح ٹیم کا بدھ کے روز حکومتِ مہاراشٹر اور بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کی جانب سے ممبئی میں شاندار استقبال کیا گیا اور ایک خصوصی تقریب کے دوران ہر کھلاڑی پر انعامات کی بوچھاڑ کر دی گئی تھی۔ ممبئی میں پینتالیس ہزار افراد کی گنجائش والا وانکھیڈے سٹیڈیم لوگوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ بی سی سی آئی کےصدر شرد پوار، حکومت مہاراشٹر کی جانب سے نمائندگی کرنے والے نائب وزیر اعلی آر آر پاٹل، ریاستی وزیر برائے کھیل کود وسنت پورکے کے ہاتھوں انڈیا کی ٹیم کے کھلاڑیوں کو اسی اسی لاکھ روپیہ کا چیک، چاندی کی ٹرے، مومینٹوز اور شالیں پیش کی گئی۔ ایک اوور میں چھ چکھے مارنے والے یوراج سنگھ کو ایک کروڑ روپے کا چیک اور ایک پورش کار دی گئی جبکہ آر پی سنگھ کو اسی لاکھ روپے کے ساتھ مرسیڈیز کار بھی تحفہ میں دی گئی۔ بی سی سی آئی چیف شردپوار نے انڈیا کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب نے مہیندر سنگھ دھونی کی کپتانی میں بہت اچھا کھیل کھیلا ہے۔
صبح سے کھلاڑیوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے منتظر عوام نے سٹیڈیم میں نعرے لگانے شروع کیے کیونکہ وہ اپنے چہیتے کھلاڑیوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بےچین تھے۔ بی سی سی آئی کے عہدیداران پہلی صف میں تھے اور ٹیم انڈیا کے فاتح کھلاڑی دوسری صف میں بیٹھے تھے۔ انعامات دینے کے بعد کپتان دھونی نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’جس وقت پاکستانی بلے باز مصباح الحق نے گیند کو اٹھا دیا تو مجھے لگا کہ سری سانتھ کے پیچھے گیند جائے گی لیکن میرا دھیان اس وقت سری سانتھ کے ہاتھوں کی طرف تھا۔اس وقت بہت ٹینشن تھا۔ ٹیم میں ایسے چند کھلاڑیوں کا رہنا ضروری ہوتا ہے۔‘ دھونی نے کہا کہ جو چھوٹے شہروں سے کھلاڑی آتے ہیں وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کچھ سخت ہوتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں بہت محنت کرنی پڑے گی۔ دھونی نے کہا کہ ’ہم رلیکسڈ تھے اور انجوائے کر رہے تھے۔یہ ہمارے لیے ایک چیلنج تھا کیونکہ وہاں کوئی بھی ہمارے بارے میں بات نہیں کر رہا تھا۔ کسی کو یقین نہیں تھا کہ ہم فائنل کے لیے بھی کوالیفائی کر سکیں گے۔ ہم نے ہر میچ کو الگ انداز میں کھیلا۔‘
پروگرام کے بعد ٹیم انڈیا نے پورے گراؤنڈ کا راؤنڈ لگایا اور لوگوں نے چلا کر ہاتھ ہلا کر نعرے لگا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔گراؤنڈ میں لوگوں کی بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔ وانکھیڈے سٹیڈیم کے بیچوں بیچ سٹیج بنایا گیا تھا تاکہ لوگ اس جشن کو پوری طرح دیکھ سکیں۔ سٹیڈیم میں پینتالیس ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے لیکن اس سے زیادہ لوگ یہاں پہنچ گئے تھے۔ سٹیڈیم میں حب الوطنی کے گیت بجائے جا رہے تھے۔ روایتی مہاراشٹرین انداز میں ٹیم کا استقبال کیا گیا۔ سابق کرکٹر اجیت واڈیکر نے بتایا کہ ’بچوں نے وہ کر دکھایا جس کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ہم انہیں موقع دے کر گھبرا رہے تھے لیکن دھونی جیسے سلجھے ہوئے کپتان کی قیادت میں نوجوانوں نے ثابت کر دکھایا کہ وہ کمال دکھا سکتے ہیں۔‘
کرمانی کے مطابق ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں دھونی کے سامنے سینیئر کھلاڑی نہیں تھے اس لیے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی لیکن اب ون ڈے میں ان کا سابقہ سینئر کھلاڑیوں سے ہوگا۔ جب کپل دیو کو کپتان بنایا گیا تھا اس وقت بھی ٹیم میں ان سے زیادہ سینیئر کھلاڑی تھے لیکن سب نے ان کا ساتھ دیا تھا۔ ممبئی کے عوام نے اپنے انداز میں استقبال کر کے اسے تاریخی بنا دیا۔ لوگ بدھ کے روز لاکھوں کی تعداد میں اپنے ہیروؤں کے استقبال کے لیے اُمڈ پڑے تھے۔ ممبئی کی سڑکوں پر جدھر سے بھی ٹیم کا قافلہ گزرا، انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا تھا۔ موسلا دھار بارش کی پرواہ کیے بغیر لوگ صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے صبح سے راستوں پر عمارتوں کی بالکنی اور چھتوں پر کھڑے تھے۔ ایک گاڑی میں ڈی جے عقیل نغمے بجا رہے تھے۔ جنوبی ممبئی کا مرین ڈرائیو اور چرچ گیٹ علاقے میں شہر کے کافی نامور مختلف کالج ہیں۔ کے سی، جے ہند، بھونس، ولسن، زیوئیرس کالج کے طالبات کالج چھوڑ کر کھلاڑیوں کا استقبال کرنے کے لیے کھڑے تھے۔ کے سی کالج میں سال دوم (آرٹس) کی طالبہ ڈمپل مٹھیجیا اپنی سہیلی نازیہ خان اور دوسرے طالبات کے ہمراہ کالج لیکچر چھوڑ کر کھلاڑیوں کی ایک جھلک دیکھنے کی منتظر تھی۔ ڈمپل نے بتایا کہ ہم نے زندگی میں اتنی خوشی کبھی محسوس نہیں کی۔اس ٹیم نے ہمارے ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔ ’دیکھا نئی نسل نے وہ کر دکھایا جو سینئر کھلاڑی نہیں کر سکے۔‘
کھلاڑیوں کو انعامات کپتان مہیندر سنگھ دھونی کو ان کی ریاست جھارکھنڈ کے وزیراعلی نے ’جھارکھنڈ رتن‘ کا اعزاز دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک سرپرائز انعام سے نوازا جائے گا یہ انعام انہیں پندرہ نومبر کو یوم تاسیس کے موقع پر دیا جائےگا۔ مہاراشٹر حکومت نے اپنے دو کھلاڑیوں اجیت اگرکر اور روہت شرما کو دس دس لاکھ روپے دیے جو ٹیکس فری ہیں۔ جبکہ ریاست ہریانہ کی حکومت نے اپنے کھلاڑی جوگیندر شرما کو اکیس لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ ودودرا کرکٹ بورڈ نے عرفان پٹھان اور ان کے بڑے بھائے یوسف پٹھان کو گیارہ گیارہ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ کرناٹک حکومت نے کھلاڑی رابن اُتھپا اور بالنگ کوچ وینکٹیش پرساد کو اپنی جانب سے پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔ |
اسی بارے میں سپیشل میچ پر ہر ایک کی نظر23 September, 2007 | کھیل انڈیا ٹوئنٹی ٹوئنٹی چیمپیئن24 September, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ میں نئی روح: اشرف24 September, 2007 | کھیل محنت کام آ رہی ہے: عرفان پٹھان24 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||