BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 19:05 GMT 00:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قسمت نے ساتھ نہیں دیا: ملک

شعیب ملک
شعیب ملک اپنے بیٹسمینوں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں
پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کے بارے میں یہی کہاجاسکتا ہے کہ بہت قریب آکر اس سے دور ہوگئے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں ان کی ٹیم صرف پانچ رنز کی کمی سے اس خوشی سے دور ہوگئی جو ان سے روٹھ کر ان کے ہم منصب مہندر سنگھ دھونی کا مقدر بن گئی۔

فائنل کے بعد صحافیوں کے روبرو شعیب ملک کا کہنا تھا کہ جلد گرنے والی وکٹوں نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔

پاکستانی کپتان کے خیال میں عمران نذیر کا رن آؤٹ ہونا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ عمران نذیر جس انداز سے کھیل رہا تھا انہیں یقین تھا کہ وہ میچ جلد ختم کردے گا۔وہ شکست کا کچھ حصہ قسمت کے کھاتے میں بھی ڈالتے ہیں۔

شعیب ملک بیٹسمینوں کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود ان کے بارے میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں اسی لیے ایک سوال پر انہوں نے فوراً کہا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں دو تین اوور کی تیز بیٹنگ یا اچانک وکٹ گرنے سے نقشہ بدل جاتا ہے لہذا ’آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی بیٹسمین فارم میں نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بیٹسمینوں کی مجموعی کارکردگی اچھی تھی اسی لیے ٹیم فائنل تک پہنچی۔

شعیب ملک کے مطابق انہوں نے مصباح الحق سے ان کے آؤٹ ہونے والے شاٹ کے بارے میں پوچھا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ شرما کو سامنے مارنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن آخری لمحے میں انہوں نے اپنا ذہن نہ جانے کیوں بدل دیا۔
واضح رہے کہ ڈربن میں پاکستان اور بھارت کے گروپ میچ میں بھی مصباح الحق نے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کرنے کا موقع گنوادیا تھا جب وہ آخری دو گیندوں پر ایک رن نہیں بناسکے تھے اور اب فائنل میں وہ چار گیندوں پر جیت کے لیے درکار چھ رنز بنانے میں ناکام رہے۔

شعیب ملک نے کہا کہ ٹاس ہارنے کے بعد انہوں نے سوچ رکھا تھا کہ بھارت کو ایک سو پچاس اور ایک سو ساٹھ سے زیادہ نہیں کرنے دینا اور وہ اپنی منصوبہ بندی میں کامیاب رہے۔

شعیب ملک فائنل میں شکست کے باوجود سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اچھا کھیلی اس نے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا جیسی بڑی ٹیموں کو ہرایا۔

پاکستانی کپتان کہتے ہیں کہ کسی نے بھی پاکستانی ٹیم کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں فیورٹ نہیں قرار دیا تھا لیکن اچھی کارکردگی دکھاکر ان کی ٹیم فائنل تک آئی۔

بھارتی ٹیم کے بارے میں سوال پر شعیب ملک نے کہا کہ آر پی سنگھ دونوں ٹیموں میں سب سے بڑا فرق بن کر سامنے آئے۔

شعیب ملک سے پوچھا گیا کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے فوراً بعد انہیں جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلنی ہے تو انہوں نے بذلہ سنجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بیٹسمینوں کو سمجھائیں گے کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ ہے۔

اسی بارے میں
ٹکٹ ہے آپ کے پاس ؟
24 September, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد