BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 18:52 GMT 23:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محنت کام آ رہی ہے: عرفان پٹھان

عرفان پٹھان
عرفان پٹھان نے میچ میں تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا
بھارت کے بائیں ہاتھ کے تیز بولر عرفان پٹھان ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فائنل کے میں مین آف دی میچ قرار پائے جبکہ پاکستان کے شاہد آفریدی نے ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کیا۔

عرفان پٹھان کے لیے یہ ٹورنامنٹ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ ان ٹیم میں واپسی ہوئی کیونکہ وہ اچھی کارکردگی سے اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کچھ کر دکھانا چاہتے تھے۔

عرفان پٹھان نے فائنل کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کارکردگی سے زیادہ بھارت کی جیت پر خوش ہیں۔

اپنی بولنگ پر عرفان پٹھان کا کہنا تھا کہ ایک ہی اوور میں انہیں شعیب ملک اور شاہد آفریدی کی قیمتی وکٹیں ملیں جس سے پاکستانی ٹیم سخت دباؤ میں آئی۔

’اوپر والے کا شکر ہے۔ کرکٹ ہمیشہ سکھاتی ہے، کبھی اوپر کبھی نیچے، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔ لیکن اچھا محنت کام آ رہی ہے، اچھا بولنگ ہو رہا ہے۔‘

بھائیوں کی جوڑی
News image
 عرفان پٹھان اور یوسف پٹھان کی جوڑی1978 کے بعد بھارت کے لیے کوئی بین الاقوامی میچ کھیلنے والی بھائیوں کی پہلی جوڑی ہے۔ آخری بار مہندر امرناتھ اور سریندر امرناتھ پاکستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ کھیلے تھے

اس ٹورنامنٹ میں عرفان نے مجموعی طور پر دس وکٹیں حاصل کی ہیں۔

اس سوال پر کہ ٹیم سے ڈراپ ہونے کے دنوں کو کیسے یاد کرتے ہیں؟ عرفان پٹھان نے کہا کہ وہ بہت سخت دن تھے۔ زندگی برے دنوں میں آپ کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور اب وہ اپنی کارکردگی سے آگے ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔

عرفان پٹھان کو اس بات پر بھی بہت خوشی ہے کہ ان کے بڑے بھائی یوسف پٹھان نے بھی آج اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا۔عرفان کا کہنا تھا کہ اس دن کا انہیں شدت سے انتظار تھا۔

عرفان پٹھان اور یوسف پٹھان کی جوڑی1978 کے بعد بھارت کے لیے کوئی بین الاقوامی میچ کھیلنے والی بھائیوں کی پہلی جوڑی ہے۔ آخری بار مہندر امرناتھ اور سریندر امرناتھ پاکستان کے خلاف کراچی ٹیسٹ کھیلے تھے۔

پاکستان کے پٹھان یعنی شاہد آفریدی کے لیے یہ ٹورنامنٹ بولر کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔ جنہوں نے آسٹریلیا کے اسٹورٹ کلارک کے ساتھ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ بارہ وکٹیں حاصل کیں۔ تاہم بیٹنگ میں وہ کوئی بڑی اننگز کھیلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

شاید انہوں نے صحیح ہی کہا تھا: ’بندوق ہے چل گئی تو ٹھیک ورنہ‘!

اسی بارے میں
ٹکٹ ہے آپ کے پاس ؟
24 September, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد