BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 17:56 GMT 22:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میچ کے دباؤ میں نہیں آئے: دھونی

دھونی
’قسمت بھی اسی کا ساتھ دیتی ہے جو محنت کرے‘
بھارت نے جب 1983 کا ورلڈ کپ جیتا تھا تو مہندر سنگھ دھونی صرف دو سال کے تھے اور آج ان کی قیادت میں بھارت نے ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کیا ہے۔ جب ان سے ان دونوں کامیابیوں کا موازنہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ موازنے پر یقین نہیں رکھتے۔

چار سال قبل اسی وانڈررز میں بھارتی ٹیم ورلڈ کپ کا فائنل ہاری تھی لیکن پیر کو ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل کے بعد جب کپتان کی حیثیت سے دھونی میڈیا کانفرنس میں آئے تو چمکتی ٹرافی کے ساتھ ان کے چہرے پر اطمینان اور خوشی کو باآسانی پڑھا جاسکتا تھا۔

دھونی بھارتی ٹیم کی اس شاندار جیت کا بحیثیت کپتان کریڈٹ لینے کے لیے تیار نہیں اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ ٹیم ورک اور کھلاڑیوں کی خود اعتمادی کا نتیجہ ہے۔

اس سوال پر کہ اس جیت میں قسمت کا کتنا دخل ہے؟ دھونی نے کہا کہ قسمت بھی اسی وقت ساتھ دیتی ہے جب آپ محنت کریں لیکن یہ کپ صرف ان کی قسمت میں نہیں بلکہ ان کی ٹیم کے ہر کرکٹر کی قسمت میں لکھا تھا۔

بیٹنگ سے زیادہ بولنگ اچھی رہی
 بولنگ بیٹنگ سے زیادہ مستقل مزاج رہی۔ بیٹنگ میں چند ایک اچھی اننگز دیکھنے میں آئیں لیکن بولنگ نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنا اثر قائم رکھا
مہندر سنگھ دھونی

دھونی نے کہا کہ انگلینڈ کے طویل دورے کے بعد یہ ٹورنامنٹ آسان نہیں تھا لیکن ٹیم نے اپنے اوپر ٹریننگ اور میچوں کا پریشر نہیں لیا اور ہر چیز کو معمول کے مطابق نمٹایا۔

فائنل کے بارے میں بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے بولرز کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا آر پی سنگھ اور عرفان پٹھان نے بڑی عمدہ بولنگ کی ہربھجن نے بھی ایک اوور کے سوا اچھی گیندیں کیں۔ جوگندر شرما نے آخری اوور بہت عمدگی سے کیا۔ جوں جوں میچ اختتامی لمحات کی طرف بڑھ رہا تھا انہیں اندازہ تھا کہ پاکستان کے پاس وکٹیں نہیں بچی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے میچ میں پریشر بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ آپ کس طرح اسے ہینڈل کرتے ہیں اور وہ بھی اسی نکتے کو ذہن میں رکھے ہوئے تھے۔

بھارتی کپتان نے کہا کہ بھارتی فیلڈنگ پورے ٹورنامنٹ میں اچھی رہی ہر میچ میں ان کی ٹیم نے کم ازکم ایک رن آؤٹ ضرور کیا۔

مہندر سنگھ دھونی نے کہا کہ پاکستانی بولنگ بہت عمدہ رہی خصوصاً عمر گل نے بہت ہی اچھی بولنگ کی۔

دھونی نے کہا کہ ان کی بولنگ بیٹنگ سے زیادہ مستقل مزاج رہی۔ بیٹنگ میں چند ایک اچھی اننگز دیکھنے میں آئیں لیکن بولنگ نے پورے ٹورنامنٹ میں اپنا اثر قائم رکھا۔

اسی بارے میں
ٹکٹ ہے آپ کے پاس ؟
24 September, 2007 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد