جنوبی افریقہ کی خواتین سکوررز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سر ڈان بریڈمین نے کہا تھا کہ ’یہ کمنٹیٹر اور مبصر ہی ہیں جو کرکٹرز کی کارکردگی کو نکھار کر پیش کرتے ہیں۔‘ لیکن اگر دیکھا جائے تو کرکٹرز کی تعریف کرنے والے یہ لوگ بھی اعداد و شمار سے کھیلنے والوں کے محتاج ہوتے ہیں اور اگر یہ حساب کتاب صنف نازک کے ہاتھوں میں ہو تو کھیل کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان، بھارت اور سری لنکا کے برعکس، جہاں کوئی خاتون اسکورر نہیں، جنوبی افریقہ میں ایک نہیں کئی کرکٹ سکوررز ہیں، بلکہ یہاں خواتین سکوررز کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی کے مقابلوں میں یہ سب خوشدلی اور انہماک سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ جوہانسبرگ کے وانڈرز سٹیڈیم کے میڈیا باکس میں صحافیوں کو لمحہ بہ لمحہ اعداد و شمار اور دیگر تفصیلات فراہم کرنے کی ذمہ داری ایسٹی نے سنبھال رکھی ہے۔ وہ ہر وکٹ اور اہم لمحے کو اعداد وشمار کی شکل میں مائیک کے ذریعے میڈیا تک پہنچا رہی ہیں۔
اسی میڈیا باکس میں بیٹھی نولا شیکلٹن سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ وہ بھی انٹرنیشنل سکورر ہیں اور سنچورین کے سپر اسپورٹ پارک میں ہونے والے صوبائی سطح کے علاوہ بین الاقوامی میچوں کی سکورنگ بھی کر رہی ہیں۔ نولا شیکلٹن نے بتایا کہ ان کا بیٹا کرکٹ کھیلتا ہے، ان کا بیٹے کے ساتھ گراؤنڈ میں آنا جانا رہا اور ایک دن انہوں نے بھی سکورنگ کے ذریعے کرکٹ سے تعلق بنا لیا۔ میرے اس سوال پر کہ یہ تجربہ کیسا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ سکورنگ سے بہت لطف اندوز ہو رہی ہیں اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی ملازمت کا تعلق بھی اعداد وشمار سے ہے۔ نولا کے خیال میں سکورنگ آپ کو کھیل سے جوڑے رکھتی ہے آپ مصروف رہتے ہیں۔ ہنس مکھ انجیلی مغربی صوبے یا ویسٹرن پراونس کی تیس خواتین سکوررز میں سے ایک ہیں ۔ کیپ ٹاؤن کا خوبصورت نیولینڈزگراؤنڈ اسی صوبے میں ہے۔ وہ زخمی ہوجانے کے سبب زمانہ طالب علمی میں کھیلوں میں بھرپور حصہ نہ لے سکیں تاہم پراونس کی طرف سے کھیلنے والے اپنے بھائی کے ساتھ ایک دن میدان میں آئیں اور پھر کرکٹ کی ہوکر رہ گئیں۔
اینجلی پیشے کے اعتبار سے آڈیٹر ہیں لیکن کرکٹ کو اپنی زندگی سمجھتی ہیں۔ وہ اب تک دس ون ڈے انٹرنیشنل اوراتنے ہی ٹیسٹ میچوں میں سکورنگ کرچکی ہیں اور ان دنوں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کبھی کمپیوٹرائزڈ سکور بورڈ پر تو کبھی پریس باکس میں متحرک نظرآتی ہیں۔ کیا ہاتھ سے کی جانے والی عام سکورنگ کے مقابلے میں کمپیوٹرائزڈ سکورنگ آسان ہے؟ میرے اس سوال پرانجیلی نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ سکورنگ یقیناً آسان ہے کیونکہ اس میں پیپر ورک کر کے اسے مکمل نہیں کرنا پڑتا لیکن اس میں خطرہ بھی ہے کہ کسی تکنیکی مسئلے کے سبب گڑ بڑ نہ ہوجائے لہذا سکور بک بھی ساتھ رکھنی پڑتی ہے۔ سکورنگ میں چھوٹی بڑی غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔نولا شکیلٹن اور انجیلی سے بھی غلطیاں سرزد ہوچکی ہیں۔ نولا خواتین کے ایک میچ میں سکورنگ کر رہی تھیں کہ امپائر نے اپنا بازو اس طرح پھیلایا کہ وہ سمجھیں کہ اس نے نو بال کا اشارہ دیا ہے جس پر انہوں نے اسے اسکور میں شامل کرلیا حالانکہ ایسا نہیں تھا، بعد میں انہیں یہ غلطی درست کرنی پڑی۔
انجیلی کے بقول انہوں نےگزشتہ سال بھارت اور جنوبی افریقہ کے میچ میں ایک اوور میں سات گیندیں شامل کر ڈالیں جسے بعد میں انہیں درست کرنا پڑا۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پاکستان اور بنگلہ دیش کے میچ میں سکارف پہنے ایک خاتون بھی سکورنگ کرتی دکھائی دیں۔ان کا نام فوزیہ ہے۔ نولا کی طرح فوزیہ کا بھی بیٹا کرکٹ کھیلتا ہے جس کے ساتھ وہ میچوں میں جاتی رہیں اور ایک دن سکورنگ شروع کردی۔ فوزیہ گیارہ سال سے سکورنگ کر رہی ہیں لیکن بین الاقوامی میچ میں سکورنگ کا ان کا خواب سنہ دو ہزار چار میں جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے خلاف میچ میں پورا ہوا۔ فوزیہ جنوبی افریقہ میں رہ کر بھی جنوبی افریقی ٹیم کی بجائے پاکستانی ٹیم کی حمایت کرتی ہیں۔ انضمام الحق اور شاہد آفریدی ان کے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔ جنوبی افریقہ میں سکوررز کی باقاعدہ ایسوسی ایشن موجود ہے جس میں خواتین مردوں سے زیادہ ہیں۔ یہ تمام سکوررز فل ٹائم اسکوررز نہیں ہیں لیکن اپنی ملازمتوں کے باوجود کرکٹ سے ان کی جنون کی حد تک محبت برقرار ہے۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں جرمن خاتون فٹبال کوچ24 July, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||