افغان خواتین میں فٹبال کھیلنے کا شوق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی خواتین کی فٹبال چیمپیئن شِپ میں شرکت کے لیے آئی ہوئی مہمان افغان ٹیم جمعے کو فائنل میں لاہور کےس پورٹس سائنسز کلب کی خواتین ٹیم سے اسلام آباد میں ہارگئی۔ اگرچہ افغان خواتین پاکستانی فٹبال چمپیئن شپ کی ٹرافی نہیں اٹھا سکیں لیکن تقریباً تین دہائیوں کے جنگ و جدل میں بنیادی سہولیات اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہنے والی ان افغان خواتین کے لیے دوسرے نمبر پر آنا بھی بہت بڑا اعزاز ہے۔ افغانوں کے بقول فٹبال کی تاریخ اس ملک میں خطے کے دیگر ممالک کی طرح کافی پرانی ہے، یہ بات الگ ہے کہ فٹبال کی دنیا میں حتٰی کہ ہمسایہ ممالک پاکستان میں افغانستان کی فٹبال ٹیم کا کوئی بڑا نام نہیں۔ اکثر افغانوں کی نظر میں یہ ایک مردانہ کھیل ہے مگر دور حاضر میں خاص طور پر طالبان حکومت کے زوال کے بعد افغانستان میں خواتین میں بھی اس کھیل کا رجحان بڑھا ہے اور انہیں میدان میں اترنے کا موقع ملا ہے۔ فی الحال افغانستان میں خواتین کی اٹھائیس ٹیمیں موجود ہیں، گیارہ ٹیموں کا تعلق افغانستان کے مختلف صوبوں سے ہے جبکہ خود دارالحکومت کابل شہر میں اس وقت سترہ ٹیمیں موجود ہیں۔ پچانوے فیصد سے زیادہ فٹبالرز شہر کے مختلف سکولوں کی طالبہ ہیں جو پڑھائی کے ساتھ ساتھ اس میدان میں بھی اپنا ایک مقام بنانا چاہتی ہیں۔
کابل کی خواتین کھلاڑی سولہ اگست کو پاکستان میں فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے کابل سے روانہ ہوئیں۔ اگلے روز انہوں نے اپنی زندگی کا پہلا بین الاقوامی میچ صوبہ سندھ کی ٹیم کے ساتھ کھیلا مگر یہ میچ وہ ہار گئیں۔ افغان لڑکیوں کے بقول پہلی بار بڑے اور کھلے میدان میں کھیلنا، گرمی کا موسم اور میچ کی تیاری کے لیے کم وقت ان کے ہارنے کا سبب بنا۔ ’میرا نام مینہ ہے اور میں افغانستان کی منتخب فٹبال ٹیم میں کھیلتی ہوں۔ موسم بہت گرم تھا اور میدان بہت بڑا تھا۔ ہم وہاں چھوٹے میدان میں پریکٹس کیا کرتے تھے مگر جب ہم کھیلے ایک دن کے بعد عادت ہوگئی۔ آنے سے پہلے تین ہفتے ہم نے پریکٹس کی اور تین ہفتوں میں اتنے بن گئے۔‘ مگر دوسرے دن کی میچ کے بعد جیسے ان کا مقدر بھی خود ان کے ملک کی طرح بدل گیا ہو۔ ان کا میچ جیتنا شروع ہوا اور ایک کے بعد ایک میچ جیتنے لگے، یہاں تک کہ اب یہ ٹیم آج فائنل میں پہنچ گئی۔
اس جیت اور پاکستان میں ان کی مہمان نوازی سے اس جنگ زدہ ملک کی ٹیم کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ یہاں تک کہ یہ لڑکیاں اب صرف خطے میں نہیں پوری دنیا میں فٹبال کے میدان میں اپنا ایک نام، ایک مقام بنانا چاہتی ہیں۔ ’مستقبل میں اس کو آگے بڑھاؤں گی۔ میں ایک بڑی فٹبالر بنوں گی۔ پوری دنیا میں مجھے فٹبالر بننا ہے۔ جب طالبان تھے یہ سب منع تھا۔ وہ کہتے تھے سکول مت جاؤ اور کھیل مت کھیلو مگر جب لوگوں نے کہا کہ لڑکیاں لڑکوں کے برابر ہیں اور کہا کہ تم لوگ بھی فٹبال کھیلو اور سکول جاؤ، اب ہمیں کوئی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے۔‘ اس ٹیم کی مینہ جو سب سے کم عمر کھلاڑی ہیں، نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں آخر یہ مشکل کھیل کھیلنے کا خیال کیسے آیا۔ ’میرے ابو جو لڑکوں کے کوچ ہیں، نے کہا کہ اس رستے پر جاؤ۔ بچپن سے مجھے شوق تھا، اس لیے میں اس میں آئی۔ لوگ کہتے تھے یہ کھیل لڑکوں کا ہے مگر ہم نے کہا یہ لڑکیوں کے لیے بھی ہے۔ میرے ابو اور فیملی نے میری حوصلہ افزائی کی۔ اب افغانستان میں سب کو لڑکیوں کی فٹبال پسند ہے۔‘ تیس برسوں کی جنگ کے بعد افغانستان کی خواتین کو فٹبال میں آنے کا موقع مل رہا ہے مگر اب بھی ان کے لیے مشکلات موجود ہیں اور ابھی تک افغان سماج اس پر ذہنی، مذہبی اور ثقافتی طور پر آمادہ اور تیار نہیں کہ لڑکیوں کو کھلے میدان میں مردوں کے سامنے کھیلنے کا موقع مل جائے، مگر بہرحال یہ ایسی مثال ہے جسے خود افغان خواتین نے اپنی قسمت اور مقدر کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ | اسی بارے میں افغان خواتین فٹبال ٹیم پاکستان میں06 August, 2007 | کھیل افغان خواتین کی ٹیم پہنچ گئی17 August, 2007 | کھیل افغان ٹیم سے رابطہ نہیں: اہلکار16 August, 2007 | کھیل کرکٹ کی دنیا میں نام کی خواہش07 June, 2007 | کھیل صالح کی شہریت عدالت میں06 June, 2007 | کھیل سیف گیمز: افغانوں کو کیا ملا؟ 06 April, 2004 | کھیل افغان کرکٹ ٹیم کراچی میں22 September, 2005 | کھیل لیما عظیمی: افغان اسپورٹس کی خاتون اول23 August, 2003 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||