سیف گیمز: افغانوں کو کیا ملا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیف گیمز شاید بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان کے لئے کوئی بڑی بات نہ ہوں لیکن ایک ملک ایسا بھی ہے جس کے لئے یہ سیف گیمز بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ افغانستان کے لئے جس کی ٹیم پہلی مرتبہ سیف گیمز کے مقابلوں میں شرکت کے لئے آئی یہ ایک نیا تجربہ ہے۔ ڈیڑھ سو سے زائد کھلاڑیوں اور آفیشلز پر مشتمل اس وفد میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے اتھلیٹک اور تائیکوانڈو میں افغانستان کی نمائندگی کی۔ افغانستان کی ٹیم کو اگر ’سکور بورڈ‘ میں دیکھا جائے تو وہ آٹھ ممالک میں ایک سونے کے تمغے کے ساتھ چھٹے نمبر پر نظر آتی ہے جو کہ اُن کے لیےحوصلہ افزاء بات ہے۔ افغانستان کے لئے میڈل جیتنے والوں میں پچیس سالہ سلمٰی حسینی بھی ہیں جنہوں نے خواتین کے تائیکوانڈو کے مقابلوں میں اپنے ملک کے لیے کانسی کا تمغہ حاصل کیا ہے۔ یہ افغانستان کی ٹیم میں شامل واحد خاتون کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے ملک کے لیے میڈل جیتا ہے۔
افغانستان سے آئی ہوئی اتھلیٹک ٹیم کے مینجر جانِ عالم حسنی کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ایک خواب کی طرح لگ رہا، جس مقصد کے لیے ہم نے اتنے برس انتظار کیا آج وہ حقیقت بنا ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ یہ ہماری مسلسل جدوجہد کا حاصل ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا، ان کھیلوں میں شریک باقی ممالک کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ ہم ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں جو جنگ کے صدمے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پھر بھی ہم اپنی گارکردگی سے کافی مطمعن ہیں۔ افغان ٹیم کے کوچ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ اُن کے ہاں کھیلوں کے میدان نہیں ہیں اور ٹریننگ کے لیے بھی سہولیات نہیں ہیں کیونکہ طالبان کے دور میں ہمارے ملک میں کھیلوں کے ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا۔ ’اُنہیں اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ میدانوں میں سپورٹس شرٹ اور نِیکر پہن کر کھیلیں۔‘ ’خواتین کا کھیل میں شرکت کرنا کو دور کی بات گھر سے باہر قدم رکھنا بھی بہت دشوار ہوتا تھا۔ اب حالات میں بہتری آ رہی ہے اور ہم اس کوشش میں ہیں کہ ہر سطح پر کھیل کو فروغ ملے۔‘ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ سیف گیمز کی تیاری کے سلسلے میں اُنہیں صرف آٹھ ماہ کا وقت ملا لیکن پھر بھی وہ اپنے کھلاڑیوں کی کارگردی سے بہت خوش ہیں اور خاص طور پر خواتین کے کھیل سے۔ نویں سیف گیمز میں افغانستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی اور خاص طور پر خواتین کھلاڑی تمغموں کے حوالے سے بہت نمایاں تو نہیں رہیں البتہ ان کھیلوں میں شرکت سے اپنے ملک کی دوسری ہزاروں ایسی نوجوان خواتین جو بین الاقوامی کھیلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہیں کے لئے ایک مثال ضرور قائم کر دی ہے اور یہ امر کسی بھی اعزاز سے کم نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||