سنوکر کی باحجاب خواتین ریفریز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی خواتین کا بین الاقوامی سطح پر کھیلوں میں حصہ لینا اب حیرت کا باعث نہیں رہا کیونکہ فٹبال ہو یا دوسرے کھیل، ایرانی خواتین کھلاڑیوں کو حجاب میں رہتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع مل رہے ہیں لیکن کراچی میں کھیلی جانے والی تیئیسویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں دو باحجاب ایرانی خواتین ریفریوں کا نظر آنا یقیناً خوشگوار حیرت کا سبب بنا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایشین سنوکر چیمپئن شپ کے مرد کھلاڑیوں والے مقابلوں میں خواتین ریفریز سامنے آئی ہیں۔ ورلڈ سنوکر مقابلوں میں خواتین کا ریفرنگ کرنا نئی بات نہیں ہے۔ کراچی ہی میں منعقدہ 1993 کی عالمی سنوکر چیمپئن شپ میں دو یورپی خواتین ریفریز نے میچز سپر وائز کئے تھے۔ کراچی میں ہونے والی ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں آئی ہوئی ایرانی ریفریز انیس سالہ مریم باہریمان اور چھبیس سالہ طاہرہ اسلامی ہیں۔ طاہرہ ا کاؤنٹنٹ کی ڈگری حاصل کرنے والی ہیں جبکہ مریم مستقبل میں درس وتدریس کا شعبہ اپنانا چاہتی ہیں لیکن دونوں سنوکر کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ دونوں خواتین ریفریز برائے نام انگریزی بول سکتی ہیں۔ ان سے فارسی میں لیے گئے انٹرویو میں میری مدد سنوکر کے انٹرنیشنل کھلاڑی صالح محمد نے کی۔
مریم اور طاہرہ کہتی ہیں’ہمیں سنوکر میچز سپروائز کرنا عجیب نہیں لگتا۔ دراصل ہمارے ملک میں پانچ سال سے خواتین مختلف کھیلوں میں حصہ لے رہی ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا۔ ہماری فیملیز نے بھی ہمیں خوشی خوشی اس کی اجازت دی ۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم بھی اس دھارے میں شامل ہیں جس کا کریڈٹ حکومت اور ہماری سنوکر ایسوسی ایشن کو جاتا ہے جنہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی‘۔ طاہرہ اور مریم تین سال سے سنوکر مقابلوں میں ریفرنگ کررہی ہیں اور دو سال سے وہ ایشین سنوکر کنفیڈریشن سے وابستہ ہیں۔ اپنے ملک میں سنوکر کے بارے میں ان کا کہنا ہے’ایران میں سنوکر مقبول ہو رہا ہے تاہم خواتین کو باقاعدہ سنوکر کھیلنے کی اجازت نہیں ہے البتہ وہ نائن بال اور ایٹ بال گیم میں حصہ لیتی ہیں‘۔ مریم اور طاہرہ کا کہنا ہے’ایران میں خواتین پردے میں رہ کر زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں اور سپورٹس بھی اس سے الگ نہیں۔ سب سے زیادہ کراٹے اور جوڈو میں خواتین دکھائی دیتی ہیں‘۔ دونوں باحجاب خواتین ریفریز کو پہلی بار پاکستان آ کر بہت خوشی ہوئی ہے لیکن وہ کہتی ہیں’سب کچھ تو ٹھیک ہے لیکن شدیدگرمی ان کے لیے پریشان کن ہے‘۔ | اسی بارے میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ شروع11 June, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||