ایشین سنوکر چیمپئن شپ شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوتھی مرتبہ پاکستان میں منعقد ہونے والی ایشین سنوکر چیمپئن شپ پیر کو کراچی میں شروع ہوئی ہے۔ چیمپئن شپ کی خاص باتیں پاکستان کے محمد یوسف اور بھارت کے یاسین مرچنٹ کے شناسا چہرے، سری لنکا کے باپ بیٹے کی منفرد مثال اور دو ایرانی خواتین ریفریز مریم باہریمان اور طاہرہ اسلامی کی شمولیت ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ایشین سنوکر چیمپئن شپ کو خواتین ریفریز سپروائز کررہی ہیں، تاہم عالمی سنوکر چیمپئن شپ اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں میں خواتین ریفریز کی موجودگی نئی بات نہیں ہے۔ اردن اور ایران کے بعد عراق کی آخری لمحات میں دستبرداری کے بعد 23 ویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں اب 14ممالک کے 31 کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ ہے۔ سری لنکا کے ہینری بوٹیجو اپنے بیٹے سوزانتھا بوٹیجو کےساتھ مقابلے میں شریک ہیں لیکن پہلا دن دونوں باپ بیٹوں کے لیے مایوس کن رہا۔ ہینری بوٹیجو کو بھارت کے الوک کمار نے شکست دی اور سوزانتھا بوٹیجو کی بساط پاکستان کے نوین پروانی نے لپیٹ دی۔ پاکستان کے خرم آغا کے لیے وہ لمحات کٹھن تھے جب ان کے حریف تھائی لینڈ کے سوپوج سائنا نے پہلے تین فریمز جیت کر خود کو کامیابی کے بہت قریب کرلیا تھا لیکن زبردست مزاحمت کرتے ہوئے خرم آغا نے بقیہ چاروں فریمز جیت کر چیمپئن شپ کا آغاز جیت کے ساتھ کیا۔
چیمپئن شپ کے ٹاپ سیڈ متحدہ عرب امارات کے محمد شہاب نے بھی مقابلوں کی ابتدا کامیابی کے ساتھ کی۔ پہلے میچ میں ان کے مدمقابل قطر کے علی نصر العبیدلی تھے۔ محمد شہاب نے چار ایک کے واضح فرق کے ساتھ میچ جیت لیا۔ بھارت کے یاسین مرچنٹ دو مرتبہ ایشین سنوکر ٹائٹل اپنے نام کرچکے ہیں جن میں سے دوسری کامیابی2001ء میں پاکستان میں کھیلی گئی ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں تھی۔ یاسین مرچنٹ پاکستانی سنوکر شائقین میں بے حد مقبول ہیں وہ خود بھی پاکستان آکر خوشی محسوس کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں میرے خاندان کے لوگ رہتے ہیں اور اگر نہ بھی ہوتے تو سنوکر حلقوں میں مجھے جو محبت ملتی رہی ہے اس کا کوئی بدل نہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنوں ہی میں ہوں۔‘ میزبان ہونے کے ناتے پاکستان کے پانچ کیوسٹس چیمپئن شپ میں شریک ہیں جن میں صالح محمد بھی شامل ہیں۔ صالح محمد کی پاکستانی سکواڈ میں شمولیت کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے اور عدالت نے ایف آئی اے کو ان کی افغان شہریت کے بارے میں تحقیقات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ واضح رہے کہ صالح محمد گزشتہ سال پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کو بتائے بغیر افغانستان چلےگئے تھے اور انہوں نے دوحا قطر میں ہونے والے ایشین گیمز میں افغانستان کی نمائندگی کی۔ اس کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور پاکستانی سنوکر حکام سے معافی مانگ لی جس کے بعد انہیں قومی رینکنگ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ۔ اسی کی کارکردگی کی بنیاد پر ایشین ایونٹ کے لئے منتخب کردہ پاکستانی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ صالح محمد یہ چیمپئن شپ جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اس ایونٹ میں فیورٹ سمجھنے والے چینی اور تھائی کیوسٹس کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان نے صرف ایک مرتبہ ایشین سنوکر چیمپئن شپ جیتی ہے جب1998ء میں کراچی میں منعقدہ ایونٹ محمد یوسف نے اپنے نام کیا تھا۔ محمد یوسف واحد پاکستانی کھلاڑی ہیں جنہوں نے سنوکر کی عالمی چیمپئن شپ بھی جیتی ہے۔ |
اسی بارے میں سنوکر: ’سکیورٹی کے خدشات نہیں‘ 23 May, 2007 | کھیل پاکستانی سنوکر کے لیئے تھائی کوچ 24 May, 2006 | کھیل عالمی سنوکر: محمد یوسف ہارگئے25 August, 2005 | کھیل صالح محمد، ایشین سنوکر سیمی فائنل29 July, 2005 | کھیل سنوکر کے ’ بابے‘ بحرین میں 02 July, 2005 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||