BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 14:19 GMT 19:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹکٹ ہے آپ کے پاس ؟

انڈین تماشائی
میچ دیکھنے کے لیے تماشائی دور دور سے آئے ہیں
میں جوہانسبرگ کے وانڈررز کرکٹ سٹیڈیم میں داخل ہونے لگا تو میچ شروع ہونے میں ابھی تین گھنٹے تھے اور اس وقت تک سٹیڈیم کی مرکزی سڑک کارلٹ ڈرائیو پر سکیورٹی کے عملے نے جنگلے اور دوسری رکاوٹیں لگاکر اپنی تیاری بھی شروع نہیں کی تھی لیکن سڑک کے دوسری طرف شائقین کی بڑی تعداد دیکھ کر مجھے اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ شائقین کا موڈ کیا ہے اور وہ کن ارادوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

پاک بھارت کرکٹ میچ کے لیے ضروری نہیں کہ وہ دلی، موہالی یا لاہور، کراچی میں ہو۔ تب ہی شائقین اس کے سحر میں کھوئیں گے۔ سہارا کپ ہو یا شارجہ کپ یا پھر اسی طرح کے مقابلے جو ورلڈ کپ چیمپئنز ٹرافی یا ایشیا کپ میں ہوتے ہیں ان کی مقناطیسی کشش دنیا کے کونے کونے میں رہنے والے بھارتیوں اور پاکستانیوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔

میں پریس باکس میں اپنا بیگ رکھ کر کیمرے کے ساتھ واپس گیٹ پر آیا تو ٹولیوں کی شکل میں شائقین کی آمد شروع ہوچکی تھی لیکن ٹکٹوں کی کھڑکیاں بدستور بند تھیں۔

میری ملاقات موہالی سے آنے والے بھارتی جوڑے سے ہوئی۔ سلام دعا کے بعد ان کا پہلا سوال یہی تھا: ’ٹکٹ ہے آپ کے پاس؟‘۔ میرے انکار نے ظاہر ہے انہیں مایوس ہی کیا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام تر کوشش کے باوجود وہ ٹکٹ حاصل نہیں کرسکے اوراگر ملتا ہے تو وہ بلیک میں بھی خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

ایک بھارتی خاتون اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ دھوپ سے بچنے کے لیے سائے میں کھڑی تھیں۔ ان کا بھی یہی مسئلہ تھا کہ ٹکٹ نہیں مل رہے ہیں۔

شائقین
جنوبی افریقہ کے کرکٹ کے شائقین گراؤنڈ کے باہر

ابھی ان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ سڑک کی دوسری طرف سے ایک نوجوان بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ میں بڑودا کا رہنے والا ہوں کیا آپ میری ٹکٹ کے حصول میں مدد کرسکتے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کی طرح یہاں بھی ٹکٹوں کی بلیک میں فروخت کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ معمولی سی قیمت کا ٹکٹ غیرمعمولی صورتحال میں بیش قیمت بن جاتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی طرح جنوبی افریقہ میں بھی میں نے سکیورٹی کا سخت انداز دیکھا لیکن پاکستان کی طرح یہاں سکیورٹی اسٹاف شائقین کو غیرضروری طور پر پریشان نہیں کرتا اور نہ ہی سڑکیں کوسوں دور سے بند کر دی جاتی ہیں۔

میچ شروع ہونے سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف پریس باکس میں آئے ۔ پاکستانی صحافیوں سے مختصر گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم فائنل جیتے یا ہارے اس نے پاکستانی کرکٹ میں نئی روح پھونک دی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ شعیب اختر کے معاملے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کتنا سخت انداز اختیار کرے گا؟ ان کا جواب تھا خوشی کے اس موقع پر وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے اس معاملے کو بعد میں دیکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد