سپیشل میچ پر ہر ایک کی نظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روایتی حریف پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ان کے اپنے ملک میں ہو یا نیوٹرل گراؤنڈز پر اس کا سحر ہر کسی کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔ پیر کے روز جوہانسبرگ کے وانڈررز سٹیڈیم میں یہ دونوں ٹیمیں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں مدمقابل ہیں۔ چودہ ستمبر کو جب گروپ میچ میں پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں سامنے آئیں تو بہت کم لوگوں کو اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ دونوں فائنل میں بھی مدمقابل ہونگی۔ بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی بھی اسی سوچ کے مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے بارے میں تو کسی حد تک کہا جارہا تھا کہ وہ فائنل کھیل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ ہوتی ہے لیکن بھارتی ٹیم کو کسی نے اہمیت نہیں دی تھی۔ دھونی کا کہنا ہے کہ ان کے کھلاڑیوں نے غیرمعمولی کارکردگی دکھائی ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے کھلاڑیوں کو کہہ رکھا ہے کہ پریشر لینے کےبجائے اپنے کھیل سے لطف اندوز ہوں۔ مہندر سنگھ پاکستان اور بھارت کے اس فائنل کو سپیشل میچ قرار دیتے ہیں لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو اس فائنل کو صرف ایک میچ کے طور پر دیکھنا چاہئے کیونکہ پاک بھارت کرکٹ کا پریشر ویسے ہی زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان شعیب ملک کے لیے اپنی قیادت میں ایک بڑی کامیابی کا سنہری موقع ہاتھ آیا ہے اور وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ شعیب ملک کا کہنا ہےکہ سبھی پاک بھارت میچ کی اہمیت کو جانتے ہیں لیکن جب شائقین پریشر میں آتے ہیں تو اس کے اثرات کھلاڑیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں لہذا اس فائنل کو ایک میچ ہی سمجھا جائے۔ شعیب ملک نے متنبہ کیا ہے کہ ان کے بیٹسمینوں کو شری سانتھ اور آر پی سنگھ کے سامنے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا جو بہت اچھی بولنگ کر رہے ہیں۔ پاکستانی ٹیم ایک بڑے اسکور کے لیے مصباح الحق، عمران نذیر، شاہد آفریدی اور شعیب ملک پر انحصار کرے گی۔ یونس خان اس ٹورنامنٹ میں مستقل مزاجی سے رنز نہیں بنا سکے ہیں لیکن ان کے تجربے سے انکار نہیں۔ شعیب ملک اوپنر عمران نذیر سے بہت زیادہ توقعات رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستانی بولنگ اس ٹورنامنٹ میں حریف ٹیموں پر بجلی بن کر گری ہے۔ محمد آصف، سہیل تنویر اورعمرگل کا پیس اٹیک انتہائی موثر رہا ہے۔ دوسری جانب شاہد آفریدی اس ٹورنامنٹ میں بیٹنگ سے زیادہ بولنگ میں کامیاب رہے ہیں۔ وانڈررز کی وکٹ کنگزمیڈ اور نیولینڈز سے مختلف اور بیٹنگ کے لئے سازگار ہے۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے گروپ میچ میں اسکاٹ لینڈ کو شکست دی تھی جبکہ بھارت سے اس کا میچ ٹائی ہوا تھا اور بال آؤٹ پر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سپرایٹ میں پاکستانی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھائی اور سری لنکا، آسٹریلیا اور بنگلہ دیش کو شکست دی جس کے بعد سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرایا۔ بھارتی ٹیم نے سپرایٹ مرحلے میں نیوزی لینڈ سے ہارنے کے بعد جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کو ہراکر سیمی فائنل میں جگہ بنائی جہاں اس نے عالمی چیمپئن آسٹریلیا کو ایونٹ سے باہر کر دیا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈ کپ مقابلوں میں ابتک تین میچز ہوئے ہیں اور نتیجہ تینوں میں بھارت کے حق میں رہا ہے لیکن شعیب ملک ماضی کو نہیں حال کو دیکھ رہے ہیں۔ شاہد آفریدی پہلے ہی کہہ چکے ہیں وہ پچاس اوورز کے عالمی کپ میں ہارے ہیں اور یہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ہے۔ | اسی بارے میں یُوراج کیلئے منصوبہ بندی کرینگے23 September, 2007 | کھیل فائنل جوش سے کھیلیں گے: دھونی23 September, 2007 | کھیل انڈیا اور پاکستان فائنل میں 22 September, 2007 | کھیل پاکستان فیورٹ ہے: وسیم اکرم21 September, 2007 | کھیل سوبرز کے چھکے اور بالر کی شہرت21 September, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||