کرکٹ میں ایک نئی روح آ گئی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال ویسٹ انڈیز میں منعقدہ ورلڈ کپ کا فائنل جس بے ربط طریقے سے ختم ہوا تھا اس پر آئی سی سی کے کرتا دھرتاؤں کو دنیائے کرکٹ کے سامنے معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنا پڑا تھا۔ لیکن چوبیس ستمبر کی شام جنوبی افریقہ میں پہلے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل کے بعد ان کا اطمینان بجا تھا۔ پہلا ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ منظم انداز میں میچوں کے انعقاد، دلچسپ مقابلوں، کئی طرح کی شاندار انفرادی کارکردگی اور شائقین کی بھرپور توجہ کے ساتھ کامیاب رہا اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس عالمی کپ نے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل کے بعد اب کرکٹ کو تیسرا مستند فارمیٹ فراہم کر دیا ہے۔ گوکہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے ممالک میں کہیں زیادہ اور کہیں کم کی بنیاد پر بیس بیس اوورز والے یہ بین الاقوامی میچز کچھ عرصہ پہلے سے شروع ہو چکے تھے لیکن اس ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ کے بعد اب تمام ملکوں میں اس طرز کی کرکٹ کو نئی سمت ملے گی۔ مثال کے طور پر بھارت جس نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا ہے اسے جنوبی افریقہ آنے سے پہلے تک صرف ایک ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے کا تجربہ تھا لیکن بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی سمیت ہر بھارتی کو پتہ ہے کہ اب بھارت میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی زبردست لہر آنے والی ہے۔ پاکستانی کرکٹ پہلے ہی ٹوئنٹی ٹوئنٹی سے آشنا ہوچکی ہے لیکن اس ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کے بعد پاکستان میں مختصر دورانیے کی کرکٹ سے لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح دیگر ممالک میں بھی اس طرز کی کرکٹ کو سنجیدگی سے اپنایا جائے گا۔
ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی دلچسپی نے افتتاحی میچ سے لے کر اختتامی لمحات تک شائقین کو کچھ اور سوچنے نہیں دیا۔ کرس گیل کی ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی اولین سنچری ہو یا کراس براڈ کے ایک اوور میں یوراج سنگھ کے چھ چھکے۔ بیس اوورز کی اس کرکٹ کی پہلی ہیٹ ٹرک بریٹ لی کے نام ہونے کی بات ہو یا میتھیو ہیڈن کی جارحانہ بیٹنگ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس عالمی کپ میں دیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ جب بات دلچسپ میچوں کی ہو تو زمبابوے کے ہاتھوں عالمی چیمپئن آسٹریلیا کی شکست، پاک بھارت میچ کا ٹائی کے بعد بال آؤٹ پر نتیجہ اور پھر انہی دونوں کا فائنل اس کی سب سے بڑی مثالیں ہیں۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کو اعداد و شمار کے ذریعے دیکھا جائے تو ہارنے والی ٹیموں کے کھلاڑی چھائے رہے۔ آسٹریلیا کے میتھیو ہیڈن نے سب سے زیادہ265 رنز بنائے، سب سے زیادہ32 چوکے لگائے اور سب سے زیادہ4 نصف سنچریاں اسکور کیں۔ نیوزی لینڈ کے کریگ مک ملن ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ 13چھکے لگانے والے بیٹسمین تھے۔ جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز اور پاکستان کے یونس خان چھ چھ کیچز کے ساتھ نمایاں رہے۔
آسٹریلیا کے ایڈم گلکرسٹ جنہوں نے ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے اپنی نا پسندیدگی ظاہر کی وکٹ کے پیچھے سب سے زیادہ9 شکار کے ساتھ قابل ذکر رہے۔ آسٹریلیا کے اسٹورٹ کلارک اور پاکستان کے شاہد آفریدی کے حصے میں سب سے زیادہ بارہ بارہ وکٹیں آئیں لیکن آفریدی کو بیٹنگ اور بولنگ کی مجموعی کارکردگی پر ملنے والے سات پوائنٹس کی بنیاد پر پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے اور اب اس کے کامیاب انعقاد کے بعد بھی یہ بحث بہرحال موجود ہے کہ یہ مختصر کرکٹ کیا ٹیسٹ اور پچاس اوورز والی ون ڈے کرکٹ پر حاوی ہوجائے گی؟ اور کیا اسے دنیائے کرکٹ سنجیدگی سے اپنائے گی۔ جب ون ڈے کرکٹ شروع ہوئی اور اس میں نت نئے تجربات ہوئے اسوقت بھی ان خدشات کا اظہار کیا گیا کہ یہ ٹیسٹ کرکٹ کو متاثر کردے گی لیکن ٹیسٹ کرکٹ اپنے روایتی انداز کے ساتھ اب بھی موجود ہے۔ جہانتک ٹوئنٹی ٹوئنٹی کا تعلق ہے تو اس میں شائقین کے لیے کم وقت میں کرکٹ سے لطف اندوز ہونے کا عنصر موجود ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی سی سی اپنی تمام طرز کی کرکٹ میں توازن رکھے تاکہ ہر طرز کی کرکٹ کی کشش اپنی جگہ قائم رہے۔ اسوقت یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ آئی سی سی نے ٹی وی نشریاتی حقوق اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی غیرمعمولی آمدنی کے سبب انٹرنیشنل کرکٹ کا جال اس بڑے پیمانے پر پھیلا دیا ہے کہ کرکٹرز روبوٹ بن گئے ہیں۔ کرکٹ صرف پیسہ بنانے اور باٹنے کے علاوہ بھی کسی چیز کا نام ہے۔ |
اسی بارے میں انڈیا ٹوئنٹی ٹوئنٹی چیمپیئن24 September, 2007 | کھیل محنت کام آ رہی ہے: عرفان پٹھان24 September, 2007 | کھیل پاکستانی کرکٹ میں نئی روح: اشرف24 September, 2007 | کھیل جھارکھنڈ رتن :ڈی ایس پی دھونی24 September, 2007 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||