BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 May, 2007, 10:34 GMT 15:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب: ’ڈیرہ‘ کا معافی سے انکار

فائل فوٹو
دونوں فرقوں کے پیرو کاروں نے مظاہرے کیے ہیں (فائل فوٹو)
مذہبی گروپ ’ڈیرہ سچاسودا‘ نے سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی ادارے ’اکال تخت‘ کی طرف سے معافی مانگنے کے مطالبہ کو مسترد کردیا ہے اور ریاست پنجاب میں صورت حال انتہائی کشیدہ ہے۔

’ ڈیرہ سچا سودا‘ کے ترجمان ڈاکٹر آدتیہ انسان نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ڈیرہ معافی نہيں مانگے گا اور نہ ہی اپنے ڈیرے کو خالی کرے گا۔

موجودہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سچا سودا کے روحانی پیشوا سنت گرمیت رام رحیم سنگھ جی نے ایک اشتہار میں خود کو سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ، کے اندز میں دکھایا تھا۔

اکال تخت کا کہنا ہے کہ سنت رام رحیم نے گرو گوبند کی نقل کر کے مقدس گرو کی اہانت کی ہے اس لیے انہیں معافی مانگنی ہونگی۔

پنجاب پولیس نے سنت رام رحیم کے خلاف سکھوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کا ایک مقدمہ درج کیا ہے۔

اکال تخت نے کل پنجاپ میں ہڑتال کی اپیل کی ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ہر جگہ ڈیرہ سچا سودا کے خلاف مظاہرے کریں۔

اکال تخت نے ریاستی حکومت سے کہا ہے کہ وہ پنجاب میں ڈیرہ سچا سودا کے تمام مراکز (ڈیرے) کو ستائیس مئی تک بند کرے۔

ڈیرہ سچا سودا خود کو انسانیت پر مبنی صوفی مسلک بتاتا ہے اور اس کے پیروکار کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان میں سکھوں کی تعداد ایک چوتھائی ہے جبکہ باقی ہندو اور دیگر مذاہب کے ہیں۔ ان میں اکثریت دلت اور پسماندہ لوگوں کی ہے۔

اس مذہبی گروپ کا مرکز ہریانہ کے سیرسہ قصبے میں ہے اور اس کا اثر پنجاب سے لے کر ہریانہ، راجستھان اور دلی تک پھیلا ہوا ہے۔

پنجاب کی سکھ جماعتوں اور مذہبی تنظیموں کی طرح ڈیرہ سچا سودا بھی پنجاب کی سیاست میں کردار ادا کرتا ہے۔

فروری میں اسمبلی انتخابات میں ڈیرہ نے کانگریس کی حمایت کی تھی۔ ریاست میں اکالی دل اقتدار میں ہے اور موجودہ ٹکراؤ کی ایک وجہ سیاسی بھی بتائي جاتی ہے۔

سکھ کی حجامت
سکھ نوجوان کی زبردستی حجامت پر احتجاج
جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ(تصویر: انڈین ایکپریس)سِکھ لواحقین
پولیس حراست میں مرنے والوں کے لیے معاوضہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد