سکھ نوجوان کی حجامت پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں ایک سکھ طالب علم کے زبردستی بال کاٹنے کے واقعے پر مرکزی حکومت نے سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے اور اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ چند روز قبل جے پور میں بعض نامعلوم افراد نے ایک سکھ لڑکے کو اغوا کر کے اس کے بال ’ کیس‘ کاٹ دیے تھے۔ پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوتے ہی حکمراں جماعت کے بعض ارکان نے اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اقتدار والی ریاستوں میں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں۔اس پر ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور لوک سبھا کے اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا۔ بعد میں وزیر داخلہ شیو راج پاٹل نے اس پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی پولیس میں شکایت درج ہوچکی ہے اور ریاستی حکومت نے بعض پولیس افسران سمیت کئی افراد کے خلاف کارروائی کی ہے۔
’حکومت نے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جن افراد نے یہ حرکت کی ہے اور جنہوں نے اس میں مدد دی یا اکسایا ہے ان سب کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی‘۔ بحث کے دوران لوک سبھا سپیکر سوناتھ چٹرجی نے بھی س واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔ جے پور میں گزشتہ پیر کے روز بارہویں کلاس کے ایک سکھ طالب علم اندر پریت سنگھ کو اغوا کیا گیا تھا۔ اسے مارا پیٹا گیا اور بے عزتی کرنے کے لیے اسکے بال کاٹ دیۓ گیے تھے۔اطلاعات کے مطابق اندر دیپ کو یہ سزا اس لیئے دی گئی کہ اس نے لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے بعض لوگوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ سکھ برادری میں اس واقعے پر سخت نارضگی پائی جاتی ہے۔ راجھستان، دلی اور پنجاب جیسی ریاستوں میں ہزاروں لوگوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں سکھوں سے منموہن سنگھ کی معافی11 August, 2005 | انڈیا گردوارے پر پتھراؤ، سکھوں کااحتجاج28 September, 2004 | انڈیا امریکی حکومت کا سکھوں پر پوسٹر 11 December, 2004 | انڈیا حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان14 July, 2005 | انڈیا ’مذہبی فسادات سیاستدانوں کا کام‘08 August, 2005 | انڈیا ناناوتی رپورٹ پر ہنگامہ09 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||