سکھ فرقہ وارانہ فساد، مزید ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں پنجاب اور اس کی پڑوسی ریاستوں کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سکھ مذہب کے دو فرقوں کے درمیان گزشتہ چار روز سے جاری کشیدگی برقرار ہے۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے صورت حال پر تشویش ظاہر کی ہے لیکن انکے مطابق وہ پرامید ہیں کہ تشدد پر جلد ہی قابو پالیا جائےگا۔ جمعرات کی رات ایک شخص کی ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں اور حالات پر قابو پانے کے لیے حساس علاقوں میں نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ بھٹنڈا، کھنّہ اور لدھیانہ سمیت کئی شہروں میں سکھوں کی مختلف تنظیموں اور ایک مذہبی فرقے ’ڈیرہ سچّا سودا‘ کے پیروکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعہ کو بھی کئی علاقوں میں دونوں فرقوں کے پیرو کاروں نے مظاہرے کیے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلی پرکاش سنگھ بادل نے کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے جس کے بعد پارٹی کے سیاسی امور کے شعبے کی ایک میٹنگ بھی طلب کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امکان ہے کہ حالات پر قابو پانے کے لیے ایک کل جماعتی اجلاس بھی بلایا جائےگا۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں پنجاب اور ہریانہ کے وزراءاعلی سے بات چیت کی ہے اور مرکزی حکومت ریاستی انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہے۔ جمعرات کو سکّھوں کی پانچ اہم تنظیموں کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں’ڈیرہ سچا سودا‘ کے پیشوا گورمیت رام رحیم سنگھ کو تین روز کے اندر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اکال تخت کے جتھےدار جوگیندر سنگھ ویدانتی نے ریاستی حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر سرکار رام رحیم سنگھ کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کرتی ہے تو پھر وہ خود کوئی کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس میٹنگ میں سکھوں کی جانب سے ’ڈیرہ سچا سودا‘ کے پیروکاروں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ’نہانگ سنگھ‘ اور ’ڈیرا سچا سودا‘ نامی سکھ فرقوں کے درمیان تنازعہ اس وقت شروع ہوا تھا جب ’ڈیرا سچا سودا‘ فرقے کے سربراہ گرمیت سنگھ رام رحیم کو ایک اشتہار میں سکھوں کے ’گرو‘ (امام) گروگوبند سنگھ کی پوشاک میں دکھایا گيا۔ بعد ازاں ’ڈیرا سچا سودا‘ کے مذہبی پیشوا بابا گرمیت سنگھ رام رحیم کے پتلے کو ’نہانگ سنگھ‘ فرقے کے افراد نے نذر آتش کیا۔ ریاست پنجاب میں فروری میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے اور ’ڈیرا سچا سودا‘ نے عوام سے کانگریس کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی جس کے باعث اس کے زیر اثر علاقوں میں حکمراں جماعت اکالی دل بادل کے امیداروں کو شکست کا سامناکرنا پڑا تھا۔ ’ڈیرا سچا سودا‘ کے حامیوں کا الزام ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اسی لیے ان کی مخالف ہوگئی ہے جبکہ اکالی رہنما ان الزمات کی تردید کرتے ہیں۔ |
اسی بارے میں سکھ قتل عام: بھارتی وزیر مستعفی 10 August, 2005 | انڈیا سکھ قتلِ عام، لواحقین کی امداد29 December, 2005 | انڈیا سکھ کش فسادات، تین افراد مجرم26 March, 2007 | انڈیا سکھ نوجوان کی حجامت پر احتجاج24 August, 2006 | انڈیا سکھوں کی رہائی کے خلاف اپیل نہیں05 May, 2005 | انڈیا ہندوستان: فوج کا پہلا سکھ سربراہ28 November, 2004 | انڈیا گردوارے پر پتھراؤ، سکھوں کااحتجاج28 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||