سکھ قتلِ عام، لواحقین کی امداد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی حکومت نے انیس سو چوارسی کے فسادات میں مارے گئے سکھوں کے لواحقین کی آباد کاری کے لیے سات ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس پیکج کے تحت مارے گئے ہر فرد کے اہل خانہ کو ساڑھے تین لاکھ روپے کی امداد دی جائےگی جبکہ زخمیوں کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے ملیں گے۔ وزیر خزانہ پی چدمبرم نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کابینہ نےسات ارب چودہ کروڑ چھہتر لاکھ روپے کے ایک پیکج کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مختلف ریاستوں کی جانب سے بھی امدادی پیکج دیے گیے ہیں لیکن یہ اضافی مدد خصوصی طور پر وفاقی حکومت کی جانب سے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اضافی رقم سے متاثرین کی آباد کاری کا کام آسان ہو جائےگا۔ انیس سو چوراسی میں سکھوں کے خلاف فسادات کے دوران تقریبا دو ہزار سے زائد خاندان بےگھر ہوگئے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں بہت سے سکھ خاندان پنجاب منتقل ہوگئے تھے اور ان میں سے بیشتر آج بھی واپس نہیں لوٹے ہیں۔ سنہ چوراسی میں اکتیس اکتوبر کی صبح اس وقت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے سکھ گارڈز نے انہیں قتل کر دیا تھا جس کے بعد پورے ملک میں سکھ کش فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ ان فسادات میں تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔ چند ماہ قبل وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے اس قتلِ عام کے لیے سکھ برادری سے معافی بھی مانگی تھی۔ | اسی بارے میں سکھوں سے منموہن سنگھ کی معافی11 August, 2005 | انڈیا سکھ قتل عام: بھارتی وزیر مستعفی 10 August, 2005 | انڈیا ناناوتی رپورٹ پر ہنگامہ09 August, 2005 | انڈیا ’مذہبی فسادات سیاستدانوں کا کام‘08 August, 2005 | انڈیا حکومت علیحدگی پسندوں سے پریشان14 July, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||