سارک ایجنڈے پر صلاح ومشورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سارک سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل سارک ممالک کے وزراء خارجہ دلی میں اجلاس کے ایجنڈے کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔ اس اجلاس کا افتتاح منگل کی صبح ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کریں گے اور امید کی جارہی ہے کہ اس اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بہتر اور منظم طریقہ کار کے تحت ایک ایکشن پلان بھی مرتب کیا جائے گا۔ ہندوستان کے خارجہ سیکریٹری شیوشنکر مینن کے مطابق اس اجلاس میں نہ صرف ان نکات کا نفاذ شامل ہے جس پر پہلے سے ہی معاہدہ ہوچکا ہے بلکہ بقول ان کے ’دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہم مزید قدم اٹھانے کی پوزیشن میں بھی ہونگے‘۔ آزاد تجارت کے معاہدے سافٹا کے نفاذ کا سوال بھی اجلاس کا ایک اہم ایجنڈا ہے۔ آٹھ ممالک پر مشتمل علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے اس اجلاس کے دیگر اہم ایجنڈوں میں جنوبی ایشیاء یونیورسٹی علاقائی فوڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی فنڈ کا قیام اور سڑک اور ریل کے ساتھ بری، بحری اور فضائی نقل و حمل کو آسان بنانا شامل ہے۔ اجلاس میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان کے صدور اور وزراء اعظم شرکت کر رہے ہیں ۔ اس دوران سارک ممالک کے پارلیمنٹیرین، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور غیر سرکاری تنظیموں پر مشتمل ’پیپلز سارک‘ نے ایک بیان میں سارک ممالک کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایک بہتر جنوبی ایشیا بنانے کے لیے جامع اقدامات کریں۔ دلی میں ایک نیوز کانفرنس میں اس متبادل پلیٹ فارم کے رہنماؤں نے کہا کہ ’پیپلز سارک‘ نے مطالبہ کیا ہے کہ سارک کے چارٹر میں تبدیلی کی جائے کیونکہ یہ ابھی تک عو ام کی تمناؤں کو پورا نہیں کر سکا ہے۔ | اسی بارے میں ’واجپئی کشمیریوں کو ساتھ لائیں‘13 December, 2003 | آس پاس ڈھاکہ: سارک کانفرنس ملتوی02 February, 2005 | آس پاس لولیتا کی نئی کہانی13 March, 2004 | آس پاس سارک کیلئے صحافیوں کی بارات31 December, 2003 | آس پاس سارک اجلاس ایک بار پھر ملتوی02 February, 2005 | آس پاس افغانستان سارک کا رکن بن گیا13 November, 2005 | آس پاس آزاد تجارت: پاک ہند تنازعہ مؤخر02 August, 2006 | آس پاس ’سارک تاریخوں پر اعتراض نہیں‘24 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||