BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 March, 2004, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لولیتا کی نئی کہانی

سارک
سارک ادیبوں کی کانفرنس کا دوسرا دن
لاہور میں جاری دسویں سارک رائٹرز کانفرنس میں ناباکوف کی ”لولیتا" کو ایک نۓ انداز سے پیش کیا گیا ہے۔

اس کانفرنس کا آج دوسرا دن ہے جس میں مختلف ملکوں کے افسانہ نگارں اور شاعروں نے اپنی کہانیاں اور شاعری سنائی اور گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ادب میں حقیقت پسندی کی نئی روش اور اس کے اثرات پر بات چیت کی۔

 پسماندہ ممالک کے ساتھ معروف ناول لولیتا کے کردار جیسا سلوک کیا جارہا ہے اوران ملکوں کو ایسی ہی ترغیب دی جا رہی ہے کے وہ خود کو آج کے بڑے حکمرانوں کے مطابق ڈھال سکیں"۔
آصف فرخی

پاکستان کے ادبی رساے ”دنیا زاد" کے مدیر آصف اسلم فرخی نے اپنے مقالے میں معروف ناول نگار” ناباکوف" کے ناول ”لولیتا" اور اس کے کردار کو مغرب اور پسماندہ ملکوں کے درمیان تعلق کی علامت کے طور پر پیش کیا۔

آصف فرخی نے کہا” پسماندہ ممالک کے ساتھ معروف ناول لولیتا کے کردار جیسا سلوک کیا جارہا ہے اوران ملکوں کو ایسی ہی ترغیب دی جا رہی ہے کے وہ خود کو آج کے بڑے حکمرانوں کے مطابق ڈھال سکیں"۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے ادیبوں کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور ہماری قوموں کو اس کے لیے مصیبت جھیلنا ہوگی کہ انھیں کسی اور کے خوابوں کے مطابق شکل بدلنے پر مجبور نہ کیا جاۓ۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات نے ہماری صورتحال کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔ اب ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ یا تو ہم پڑھتے رہیں اور اس حلقہ کوتوڑیں اور حقیقت کا مقابلہ کریں یا پھر لولیتا جیسی بے بس عورت بن جائیں جسے لوگ اپنی غرض کے مطابق استعمال کرتے رہے۔

آصف فرخی نے کنیڈا میں رہنے والی فلم ساز پاکستانی زرقا نواز کی ڈائری کا بھی ذکر کیا جو کنیڈا کے اخباروں میں شائع ہوئی اور جس میں انھوں نے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد مغرب کے بدلتے ہوۓ مزاج کے پس منظر میں اپنی روزمرہ کی زندگی کو بیان کیا ہے۔

نیپال سے آۓ ہوۓ پروفیسر ”ابھی سوبیدی" نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے واقعات اور ان پر امریکہ کا ردعمل دونوں میں اتنی شدت ہے کہ یہ سیاست اور جنگ کے دائرے سے نکل کر مابعدالطبیعات کے دائرے میں چلے گۓ ہیں اور اسے القاعدہ اور امریکہ کے درمیان نیکی اور بدی کی جنگ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

اردو کے افسانہ نگار ”انور سجاد: نے کہا کہ عوام کا ایک بڑا دشمن میڈیا پر حکمران طبقے کا مکمل کنٹرول ہے اور سارک کے ادیبوں کو اس پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنانی چاہیے"۔

آج سارک رائٹرز کانفرنس میں ”افتحار عارف اور شمیم حنفی" کے علاوہ بہت سے ادیبوں نے اپنی شاعری اور افسانے سامعین کے لیئے پڑھ کر سناۓ۔

یہ کانفرنس کل شام کو ختم ہو جاۓگی اور سوموار کو ادیب لاہور میں مشہور مقامات دیکھنے جائیں گے اور منگل کو اپنے اپنے ملکوں کو واپس چلے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد