| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمالی، واجپئی ملاقات
اتوار کو جنوب ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کا بارھواں اجلاس اسلام آباد کے جناح کنوینشن سینٹر میں شروع ہوگیا جو چار جنوری سے چھ جنوری تک جاری رہے گا۔ یہ اجلاس دو سال بعد منعقد ہورہا ہے کیونکہ پچھلے سال یہ سربراہ اجلاس ہندوستان اور پاکستان کی درمیان کشیدگی کی وجہ سے منعقد نہیں ہوسکا تھا۔ سنہ دو ہزار دو میں سارک کا گیارھواں اجلاس نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں ہوا تھا۔ سارک ملکوں کے سربراہان باری باری صبح دس بج کر بائیس منٹ تک جناح کنوینشن سینٹر پر پہنچے جہاں پاکستان کے وزیر اعظم نے ان کا استقبال کیا۔ پاکستانی وقت کے مطابق صبح دس بج کر چونتیس منٹ پر جب سربراہان کا اجلاس پاکستان کا قومی ترانہ بجا کر شروع ہوا جس کے بعد ڈاکٹر محمد الغزالی نے قران کی آیات سے اجلاس کا باقاعدہ آغاز کیا۔ انتہائی سخت حفاظتی انتظامات میں آج کا سربراہ اجلاس ایک چھ نکاتی ایجنڈے کے ساتھ شروع ہوا ہے جس کو سارک کی وزراۓ خارجہ کی کونسل نے گزشتہ دو دنوں میں اپنے اجلاس میں حتمی شکل دی۔ اب ان کی سفرشات کو رسمی منظوری کے لیے سربراہان کے اجلاس میں پیش کیا جاۓ گا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے ہفتہ کے روز اس ایجنڈے کے نمایاں نکات پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ تمام ملکوں نے عالاقائی تعاون کے مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق کیا ہے جسے منظوری کے لیے تنظیم کے سربراہ اجلاس میں پیش کیا جاۓ گا۔ اس اعلامیہ میں تجارتی اور معاشی معاملات ، سائینس اور ٹیکنالوجی ، سماجی ترقی، کلچرل رابطوں، ماحول، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اطلاعات اور رسل و رسائل میں زیادہ رابطوں اور جنوب ایشیا میں امن اور استحکام کے لیے علاقائی تعاون کے امور شامل ہیں۔ سارک ملکوں کے وزراۓ خارجہ سارک ملکوں کے انسداد دہشت گردی کے کنوینشن میں ترمیم پر بھی متفق ہوچکے ہیں اور اس ترمیم کو حتمی منظوری کے لیے سربراہ اجلاس میں پیش کیا جاۓ گا۔ اس ترمیم میں دہشت گردی کی مالی امداد سے متعلق شقیں شامل کی گئی ہیں۔ سارک سربراہ اجلاس کے ایجنڈے پر آزادانہ تجارت کا معاہدہ سیفٹا بھی کی منظوری بھی شامل ہے جس پر وزراۓ خارجہ کی کونسل اتفاق کرچکی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت جنوری سنہ دو ہزار چھ سے سارک کے زیادہ ترقی یافتہ ممالک پانچ سال کے عرصہ میں ایک دوسرے کے مال کے لیے اپنی درآمدی ڈیوٹیاں صفر سے پانچ سال تک پر لے آئیں گے جبکہ کم ترقی یافتہ ممالک دس سال میں ایسا کریں گے۔ اس معاہدہ کے تحت ایک شق یہ بھی ہے کہ ہر رکن ملک ایک حساس اشیا کی فہرست بھی بناۓ گا جن پر درآمدی ڈیوٹی کم نہیں کی جاۓ گی اور اس حساس فہرست کو جنوری دو ہزار چھ تک بنالیا جاۓ گا۔ سربراہ اجلاس کے ایجنڈے پر سوشل چارٹر کی منظوری ، غربت کے خاتمہ کی رپورٹ اور سارک ملکوں کے لیے ایک ترقیاتی بینک کے امکان کا جائزہ بھی شامل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||