ہند پاک مذاکرات کا چوتھا دور آج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چوتھے دور کے مذاکرات منگل کو اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں۔ مشترکہ مذاکرات میں ہندوستان کی سربراہی خارجہ سکریٹری شیوشنکر مینن کریں گے اور وہ پیر کی شام اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ وزرات خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے مذاکرات کے اس دور میں دونوں ملکوں میں امن، تحفظ، اور جموں اور کشمیر کے علاوہ بحالیِ اعتماد پر بات چیت ہوگی۔ سفارتی حلقوں میں خیال کیا جارہا ہے کہ ان مذاکرات ميں ہندوستان پاکستان پر سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مقامی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزارت خارجہ کے سکریٹری سطح پر ہونے والے ان دو روزہ مذاکرات میں جن موضوعات پر بات چیت ہونے کے امکانات ہیں ان میں سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان ٹرک سروس کی بحالی، عام افراد کے لیے ویزا کی فراہمی کوآسان بنانا اور پاکستان کی جیلوں میں قید بھارتی ماہی گیروں اور عام قیدیوں کی رہائی اہم ہیں۔
ان مذاکرات کے دوران پاکستان ہندوستان پر زور ڈال سکتا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام جموں اور کشمیر میں فوج کی انخلا کرے۔ تاہم ہندوستان کا موقف رہا ہے کہ جب تک ہندوستان کے زیر انتظام جموں اور کشمیر میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا فوج کی انخلا کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ | اسی بارے میں جوہری تعاون پر پاک بھارت معاہدہ21 February, 2007 | پاکستان پاک بھارت ’سیاحتی گروپ ویزا‘20 January, 2007 | پاکستان سرکریک پر پاک بھارت مذاکرات22 December, 2006 | پاکستان ’پاک بھارت مذاکرات بحال‘17 October, 2006 | پاکستان پاک بھارت وزراء ملاقات مشکوک 03 July, 2006 | پاکستان پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ30 June, 2006 | پاکستان پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کا اعلان31 May, 2006 | پاکستان پاک بھارت مشترکہ گشت14 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||