سچر کمیٹی پر عمل درآمد کی رپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سچر کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے تشکیل دی گئی فاطمی کمیٹی نے اپنی رپورٹ وزارتِ فروغ انسانی وسائل کے حوالے کر دی ہے۔ حکومت نے مسلمانوں کے سماجی اقتصادی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سچر کمیٹی تشکیل دی تھی۔ سچر کمیٹی نے ملک میں مسلمانوں کے سماجی اقتصادی حالت کا جائزہ لینے کے بعد رپورٹ میں جو سفارشات پیش کی تھیں ان کو رو بہ عمل لانے پر غور کے لیے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ یہ کمیٹی انسانی وسائل کے ترقی کے محکمہ کے وزیر مملکت محمد اشرف علی فاطمی کی سربراہی میں 13ممبران پر مشتمل تھی۔ یہ رپورٹ ابھی میڈیا میں نہیں آئی۔ بی بی سی نے اس کی کاپی دیکھی ہے۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں کے لیے خاص پروگرامز کے لیے کہا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے سرحدوں سے ملحق مسلم علاقوں میں ترقی کی نئی مہم تیزی سے نہیں شروع کی گئی تو قومی سلامتی کو خدشہ بڑھ جائے گا۔ ذرائع کے مطابق فاطمی کمیٹی نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی جیسے انسٹیوٹس میں مسلمانوں کے لیے سیٹیں بڑھائے اور جن علاقوں میں مسلمانوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ ہے وہاں مسلم لڑکیوں کے سرکاری سکول کھولے جائیں۔ رپورٹ میں دی گئی تجاویز کی بنیاد پر حکومت آئندہ گیارہویں پنچ سالہ منصوبے میں مسلمانوں کے لیے خاص پروگرام تیار کرے گی۔ حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر شاہ نواز حسین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی سماجی اور اقتصادی حالت سدھارنے کے لیے کمیٹیاں بناکر حکومت مسلمانوں کا بے وقوف بنا رہی ہے ’یہ صرف ایک چال ہے‘۔ وہیں بائیں بازوں کے لیڈر محمد سلیم کا کہنا ہے کہ بائیں بازوں کے رہتے ہوئے حکومت مسلمانوں کے سدھار کو صرف ایک سیاسی موضوع نہیں بنا سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی کاسیاسی منظر اور مسلمان 30 January, 2007 | انڈیا ’ملکی ترقی میں مسلمان کا حصہ کم‘27 December, 2006 | انڈیا ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟03 December, 2006 | انڈیا ہندوستانی مسلمان، پسماندگی کا بھنور25 November, 2006 | انڈیا انڈیا کی جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد29 October, 2006 | انڈیا مسلمانوں کے مسائل اور علماء کی کوششیں26 September, 2006 | انڈیا نیا مذہبی قانون، عیسائی مسلمان برہم20 September, 2006 | انڈیا ’مسلمان برداشت پیدا کریں‘16 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||