’مسلمان برداشت پیدا کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینئر ہندو رہنما اوما بھارتی نے کہا ہے کہ مسلم برادری کے رہنماؤں کو ’دوسرے مذاہب کی جانب سے صحتمند تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا چاہیئے‘۔ اسلام کے بارے میں پوپ بینیڈکٹ کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اوما بھارتی نے کہا کہ تمام مذاہب کو دوسرے مذاہب کی جانب سے عدم قبولیت کا سامنا کرنے کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔ اوما بھارتی کو گزشتہ سال نومبر میں ہندو قوم پرست جماعت بھارت جنتا پارٹی سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے ’جن شکتی‘ یا ’عوام کی قوت‘ کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت بنالی ہے۔ اوما بھارتی کا اصرار تھا کہ مذاہب کسی ایک کمیونٹی کی میراث نہیں ہوتے بلکہ یہ آفاقی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کی بڑی ہندو کمیونٹی سے بھی کہا کہ دیگر مذاہب کی جانب سے ’صحتمند تنقید‘ برداشت کرنے کے لیئے تیار رہیں۔ اوما بھارتی نہ کہا کہ عیسائی، ہندو اور بدھ مت سے تعلق رکھنے والے لوگ تنقید برداشت کرنا جانتے ہیں لیکن اسلام کے ماننے والے ایسا ذہن نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ’ذمہ دار مسلمان رہنماؤں کو چاہیئے کہ وہ تازہ ہوا کا جھونکا اپنے ذہنوں تک آنے دیں‘۔ ان کا کہنا تھاکہ پوپ کے بیان پر مسلمانوں کو سڑکوں اور گلیوں میں تشدد آمیزی کے بجائے منطقی ردعمل کا اظہار کرنا چاہیئے۔ | اسی بارے میں خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان 03 August, 2005 | انڈیا لعل کرشن اڈوانی کے خلاف مہم تیز 16 July, 2005 | انڈیا نریندر مودی کے خلاف اعلانِ بغاوت28 May, 2004 | انڈیا رابڑی دیوی: ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کی رول ماڈل؟10 December, 2005 | انڈیا یوپی، مذہبی رواداری اور انتخاب24 March, 2004 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||